صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۹ - عبادت اور خیرخواہی کی خوبی
عبادت اور خیرخواہی: اچھے غلام کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۴۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۴۹
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنَا أَبُو صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نِعْمَّا لِأَحَدِهِمْ يُحْسِنُ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَيَنْصَحُ لِسَيِّدِهِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کتنا اچھا ہے کسی کا وہ غلام جو اپنے رب کی عبادت تمام حسن و خوبی کے ساتھ بجا لائے اور اپنے مالک کی خیر خواہی بھی کرتا رہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۵۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع عبادت اور خیرخواہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی کا وہ غلام کتنا اچھا ہے جو اپنے رب کی عبادت اچھے طریقے سے بجا لائے اور اپنے مالک کی خیرخواہی بھی کرتا رہے۔ یہاں حدیث نے دو پہلو جمع کیے ہیں: اللہ کے ساتھ بندگی اور لوگوں کے ساتھ ذمہ داری۔ یہ الفاظ بہت سادہ مگر معنی خیز ہیں۔ عبادت کا مطلب رب کا حق ادا کرنا ہے، اور خیرخواہی کا مطلب اپنے سپرد کام میں بددیانتی نہ کرنا اور مالک کے حق کو نظر انداز نہ کرنا ہے۔ اس حدیث میں دوگنا اجر کا لفظ نہیں آیا، بلکہ تعریف اور خوبی کا انداز آیا ہے، اس لیے بیان میں اسی فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رب کی عبادت کو اچھے طریقے سے ادا کرنا تعریف کے قابل ہے۔
- مالک کے ساتھ خیرخواہی کو حدیث میں اچھا وصف بتایا گیا ہے۔
- دینی عبادت اور عملی ذمہ داری دونوں کو ساتھ رکھا گیا ہے۔
