صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۲ - الفاظ کے ادب کی تعلیم

الفاظ کے ادب کی حدیث: رب، آقا اور غلام کے الفاظ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۵۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ أَطْعِمْ رَبَّكَ وَضِّئْ رَبَّكَ اسْقِ رَبَّكَ ، وَلْيَقُلْ سَيِّدِي مَوْلَايَ ، وَلَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ عَبْدِي أَمَتِي ، وَلْيَقُلْ فَتَايَ وَفَتَاتِي وَغُلَامِي " .

ابوہریرہ روایت:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کوئی شخص (کسی غلام یا کسی بھی شخص سے) یہ نہ کہے۔ اپنے رب (مراد آقا) کو کھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کو پانی پلا“۔ بلکہ صرف میرے سردار، میرے آقا کے الفاظ کہنا چاہئے۔ اسی طرح کوئی شخص یہ نہ کہے۔ ”میرا بندہ، میری بندی، بلکہ یوں کہنا چاہئے میرا چھوکرا، میری چھوکری، میرا غلام۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع الفاظ کا ادب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی شخص یہ نہ کہے: اپنے رب کو کھانا کھلا، اپنے رب کو وضو کرا، اپنے رب کو پانی پلا۔ اس کے بجائے میرے سردار یا میرے آقا جیسے الفاظ کہے جائیں۔ اسی طرح کوئی شخص یہ نہ کہے: میرا بندہ، میری بندی، بلکہ میرے چھوکرے، میری چھوکری یا میرا غلام جیسے الفاظ استعمال کرے۔ اس حدیث میں زبان کی اصلاح سکھائی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ ایسے الفاظ سے بچا جائے جن میں ربوبیت یا بندگی کے خاص معنی غلط انداز میں آ سکتے ہوں۔ اردو میں اسے الفاظ کے ادب، اسلامی گفتگو کے آداب، اور غلام کے لیے مناسب الفاظ کی حدیث کے طور پر تلاش کیا جاتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • زبان کے الفاظ میں ادب اور احتیاط مطلوب ہے۔
  • رب کا لفظ آقا کے معنی میں استعمال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
  • حدیث میں متبادل الفاظ بھی سکھائے گئے ہیں۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں