صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۳ - غلام کا حصہ آزاد کرنے کا حکم
غلام کا حصہ آزاد کرنا: منصفانہ قیمت کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۵۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۵۳
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَعْتَقَ نَصِيبًا لَهُ مِنَ الْعَبْدِ فَكَانَ لَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ قِيمَتَهُ ، يُقَوَّمُ عَلَيْهِ قِيمَةَ عَدْلٍ ، وَأُعْتِقَ مِنْ مَالِهِ ، وَإِلَّا فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے غلام کا اپنا حصہ آزاد کر دیا، اور اس کے پاس اتنا مال بھی ہو جس سے غلام کی واجبی قیمت ادا کی جا سکے تو اسی کے مال سے پورا غلام آزاد کیا جائے گا ورنہ جتنا آزاد ہو گیا ہو گیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۵۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع آزادی کا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے غلام میں اپنا حصہ آزاد کر دیا، اور اس کے پاس اتنا مال ہو کہ غلام کی واجبی قیمت ادا کر سکے، تو اسی کے مال سے پورا غلام آزاد کیا جائے گا۔ اس کے لیے منصفانہ قیمت لگائی جائے گی۔ اگر اس کے پاس اتنا مال نہ ہو تو جتنا حصہ آزاد ہوا، اتنا ہی آزاد ہو گا۔ یہ حدیث ایک خاص مالی اور قانونی صورت بیان کرتی ہے، اس لیے اسے عام جذباتی بات بنا کر نہیں پھیلانا چاہیے۔ اصل مضمون یہ ہے کہ جزوی آزادی کی صورت میں مال دار شریک پر باقی قیمت ادا کر کے غلام کو مکمل آزاد کرانے کا حکم آیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جزوی آزادی کی صورت میں منصفانہ قیمت کا ذکر آیا ہے۔
- مال موجود ہو تو پورے غلام کی آزادی کا حکم بیان ہوا ہے۔
- مال نہ ہو تو جتنا حصہ آزاد کیا گیا ہو، اتنا ہی آزاد ہو گا۔
