صحیح بخاری حدیث ۲۵۶۲ - آزادی اور ولاء کا شرعی اصول

ولاء کا حق کس کو ملتا ہے؟ آسان حدیثی رہنمائی

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۶۲

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : أَرَادَتْ عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ تَشْتَرِيَ جَارِيَةً لِتُعْتِقَهَا ، فَقَالَ أَهْلُهَا عَلَى أَنَّ وَلَاءَهَا لَنَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَمْنَعُكِ ذَلِكِ ، فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک باندی خرید کر اسے آزاد کرنا چاہا، اس باندی کے مالکوں نے کہا کہ اس شرط پر ہم معاملہ کر سکتے ہیں کہ ولاء ہمارے ساتھ قائم رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ ان کی اس شرط کی وجہ سے تم نہ رکو، ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔

صحیح بخاری حدیث ۲۵۶۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں ولاء کا مسئلہ بہت صاف الفاظ میں آیا ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا ایک باندی خرید کر آزاد کرنا چاہتی تھیں، مگر اس کے مالکوں نے شرط رکھی کہ ولاء ہمارے لیے رہے گی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس شرط کی وجہ سے رکنے سے منع فرمایا اور اصول بتا دیا کہ ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی معاملے میں صرف شرط لگا دینا کافی نہیں، شرط درست بھی ہونی چاہیے۔ ولاء کی حدیث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ شرعی حق کو غلط شرط کے ذریعے بدلا نہیں جا سکتا۔ آزادی کا عمل جس کے ہاتھ سے ہو، اسی کے ساتھ ولاء قائم ہوتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • غلط شرط نیک کام سے روکنے کا سبب نہیں بننی چاہیے۔
  • ولاء مالک کی شرط سے نہیں بلکہ آزاد کرنے والے سے متعلق ہے۔
  • شرعی معاملے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کا فیصلہ اصل بنیاد ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں