صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۹ - بریرہؓ کی خریداری اور ولاء

بریرہؓ اور ولاء: خرید لو، ولاء آزاد کرنے والے کی ہے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۵۹

حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَرَادَتْ عَائِشَةُ أَنْ تَشْتَرِيَ بَرِيرَةَ ، فَقَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنَّهُمْ يَشْتَرِطُونَ الْوَلَاءَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اشْتَرِيهَا فَإِنَّمَا الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خرید لو، ولاء تو اسی کے ساتھ قائم ہوتی ہے جو آزاد کرے (آزاد کرائے)۔

صحیح بخاری حدیث ۶۷۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو خریدنا چاہا۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یہ لوگ ولاء کی شرط لگاتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہیں خرید لو، کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہوتی ہے جو آزاد کرے۔ اس روایت میں الفاظ کم ہیں، مگر مسئلہ بہت واضح ہے۔ مالکوں کی لگائی ہوئی شرط کے باوجود اصل حق آزاد کرنے والے کو دیا گیا۔ اس لیے ولاء کی حدیث، بریرہ کا واقعہ، اور غلام آزاد کرنے کے حق کو سمجھنے کے لیے یہ روایت آسان جواب دیتی ہے۔ عام زبان میں بات یہ ہے کہ جس نے آزادی دی، ولاء کا تعلق اسی سے قائم ہو گا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ولاء کی شرط کے باوجود خریدنے کا حکم دیا گیا۔
  • ولاء آزاد کرنے والے کے ساتھ قائم ہوتی ہے۔
  • بریرہؓ کا واقعہ ولاء کے مسئلے کو واضح کرتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں