صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۰ - ولاء قیمت اور احسان والے کے لیے
ولاء کا حق: قیمت دینے اور آزاد کرنے والے کے لیے
صحیح بخاری : ۶۷۶۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۷۶۰
حَدَّثَنَا ابْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْطَى الْوَرِقَ ، وَوَلِيَ النِّعْمَةَ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ولاء اس کے ساتھ قائم ہو گی جو قیمت دے اور احسان کرے (آزاد کر کے)۔
صحیح بخاری حدیث ۶۷۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ ولاء اس کے لیے ہے جو قیمت دے اور احسان کرے، یعنی آزاد کرے۔ اس روایت میں ولاء کے حق کو دو باتوں سے جوڑا گیا ہے: قیمت ادا کرنا اور آزادی کا احسان کرنا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ولاء کا تعلق صرف زبانی دعوے یا شرط سے نہیں بنتا، بلکہ اس عمل سے بنتا ہے جس کے ذریعے کسی کو آزادی دی گئی۔ اس حدیث کا تعلق بریرہ رضی اللہ عنہا کے واقعے کے قریب مضمون سے ہے، جہاں ولاء کے بارے میں بار بار یہی اصول آیا کہ ولاء آزاد کرنے والے کے لیے ہے۔ جو شخص ولاء کا مطلب، آزاد کرنے والے کا حق، یا قیمت دینے والے کی ولاء تلاش کرے، اسے اس روایت میں مختصر مگر واضح جواب ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ولاء اس کے لیے ہے جو قیمت دے۔
- آزادی کا احسان ولاء کے حق سے جڑا ہوا ہے۔
- ولاء زبانی شرط سے نہیں بلکہ حقیقی آزاد کرنے سے متعلق ہے۔
