صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۰ - عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری میں ہدیہ
ہدیہ بھیجنے کا وقت: عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری
صحیح بخاری : ۲۵۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۸۰
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : " كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمِي " . وَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ : إِنَّ صَوَاحِبِي اجْتَمَعْنَ ، فَذَكَرَتْ لَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهَا .
عائشہ روایت:
لوگ تحائف بھیجنے کے لیے میری باری کا انتظار کیا کرتے تھے۔ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا میری سوکنیں (امہات المؤمنین رضوان اللہ علیہن) جمع تھیں اس وقت انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے (بطور شکایت لوگوں کی اس روش کا) ذکر کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۵۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ لوگ میرے دن میں اپنے ہدایا بھیجنے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ پھر ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے ذکر آتا ہے کہ امہات المؤمنین جمع ہوئیں اور انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اس بات کا ذکر کیا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے جواب نہیں دیا۔ اس روایت میں اصل موضوع ہدیہ بھیجنے کا وقت اور نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں تحفے پہنچانے کا لوگوں کا معمول ہے۔ اس سے یہ بات سمجھ آتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خوشی کا خاص خیال رکھتے تھے۔ حدیث میں جو بات بیان ہوئی ہے، اسے اسی حد تک رکھنا چاہیے اور اس سے زائد کوئی بات شامل نہیں کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لوگ نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو ہدیہ بھیجنے کے لیے خاص وقت کا انتظار کرتے تھے۔
- روایت میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی باری کا خاص ذکر ہے۔
- نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے اس شکایت پر اس روایت میں کوئی جواب نہیں دیا۔
