صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۱ - خرچ کرو اور گنا نہ کرو

خرچ کیا کرو، گنا نہ کرو: صدقہ کی آسان حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۹۱

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ فَاطِمَةَ ، عَنْ أَسْمَاءَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَنْفِقِي ، وَلَا تُحْصِي فَيُحْصِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ ، وَلَا تُوعِي فَيُوعِيَ اللَّهُ عَلَيْكِ " .

اسماء بنت ابی بکر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خرچ کیا کر، گنا نہ کر، تاکہ تمہیں بھی گن کے نہ ملے اور جوڑ کے نہ رکھو، تاکہ تم سے بھی اللہ تعالیٰ (اپنی نعمتوں کو) نہ چھپا لے۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۱ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع صدقہ اور خرچ کرنے کا جذبہ ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ خرچ کیا کرو، گنا نہ کرو، تاکہ تمہیں بھی گن کر نہ ملے، اور جوڑ کر نہ رکھو، تاکہ اللہ تعالیٰ بھی تم سے نہ روک لے۔ اس حدیث میں دل کو تنگی سے بچانے کی تربیت ہے۔ بعض اوقات انسان نیکی کے وقت بہت زیادہ حساب لگانے لگتا ہے اور پھر ہاتھ رک جاتا ہے۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے یہاں خرچ کرنے کی ترغیب دی، خاص طور پر اس انداز میں کہ دل میں بخل نہ آئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسان بے سوچے سب کچھ خرچ کر دے، بلکہ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ صدقہ دیتے وقت دل کشادہ ہو۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • صدقہ دیتے وقت دل کو زیادہ تنگ نہیں کرنا چاہیے۔
  • مال کو روک کر رکھنے کی عادت ناپسندیدہ ہو سکتی ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے خرچ کرنے کی ترغیب نرم مگر واضح انداز میں دی۔
  • نیکی میں حساب کتاب اتنا نہ ہو کہ عمل ہی رک جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں