صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۴ - صلہ رحمی اور زیادہ اجر

صلہ رحمی اور رشتہ داروں کو دینے کی فضیلت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۹۴

وَقَالَ بَكْرٌ : عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ بُكَيْرٍ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، إِنَّ مَيْمُونَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَتْ وَلِيدَةً لَهَا ، فَقَالَ لَهَا : وَلَوْ وَصَلْتِ بَعْضَ أَخْوَالِكِ كَانَ أَعْظَمَ لِأَجْرِكِ " .

کریب روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا ”اگر وہ تمہارے ننھیال والوں کو دی جاتی تو تمہیں زیادہ ثواب ملتا۔“

صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا بنیادی موضوع صلہ رحمی اور رشتہ داروں کو دینا ہے۔ میمونہ رضی اللہ عنہا نے اپنی ایک لونڈی آزاد کی۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان سے فرمایا کہ اگر وہ تمہارے ننھیال والوں کو دی جاتی تو تمہیں زیادہ اجر ملتا۔ اس حدیث میں ایک بہت عملی بات ہے کہ نیکی صرف یہ نہیں کہ آدمی کچھ دے، بلکہ یہ بھی دیکھے کہ کس کو دینا زیادہ مناسب ہے۔ رشتہ دار اگر مدد کے مستحق ہوں تو انہیں دینا دو فائدے رکھتا ہے: مدد بھی ہوتی ہے اور رشتہ بھی جڑتا ہے۔ حدیث میں غلامی کے خاص معاملے کا ذکر ہے، اس لیے وضاحت اسی حد تک ہے کہ نبی صلى الله عليه وسلم نے رشتہ داروں کو دینے کو اس موقع پر زیادہ اجر والا بتایا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رشتہ داروں کو دینا صلہ رحمی کا حصہ ہے۔
  • نیکی کے لیے مناسب جگہ کا انتخاب بھی اہم ہے۔
  • نبی صلى الله عليه وسلم نے زیادہ اجر والے عمل کی طرف رہنمائی فرمائی۔
  • اپنوں کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں