صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۵ - پڑوسی کو ہدیہ
قریب ترین پڑوسی کو ہدیہ دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۹۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۹۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَيْمِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ لِي جَارَيْنِ ، فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي ؟ قَالَ : " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا " .
عائشہ روایت:
میں نے عرض کیا، یا رسول اللہ! میری دو پڑوسی ہیں، تو مجھے کس کے گھر ہدیہ بھیجنا چاہئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا دروازہ تم سے قریب ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۵ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع پڑوسی کا حق اور ہدیہ ہے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ میری دو پڑوسی ہیں، میں کس کے گھر ہدیہ بھیجوں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس کا دروازہ تم سے قریب ہو۔ یہ بہت آسان مگر روزمرہ زندگی سے جڑا ہوا سبق ہے۔ کبھی انسان سوچتا ہے کہ کس کو پہلے دے، کس کو بعد میں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے قریب ترین پڑوسی کو ترجیح بتائی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پڑوسی کے حق میں قربت کا بھی لحاظ ہے۔ جس کا گھر زیادہ قریب ہو، اس سے واسطہ بھی زیادہ پڑتا ہے، اس لیے اس کے ساتھ اچھا تعلق، ہدیہ، خیرخواہی اور نرم برتاؤ بہت اہم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کو ہدیہ دینا اچھے تعلق کا ذریعہ ہے۔
- دو پڑوسی ہوں تو قریب دروازے والے کو پہلے ترجیح دی جا سکتی ہے۔
- دینی رہنمائی روزمرہ کے چھوٹے معاملات میں بھی ملتی ہے۔
- قریب رہنے والوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔
