صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۶ - احرام میں شکار کا ہدیہ
احرام کی حالت میں شکار کا ہدیہ واپس کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۵۹۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۵۹۶
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ الصَّعْبَ بْنَ جَثَّامَةَ اللَّيْثِيَّ ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يُخْبِرُ أَنَّهُ أَهْدَى لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِمَارَ وَحْشٍ وَهُوَ بِالْأَبْوَاءِ أَوْ بِوَدَّانَ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَرَدَّهُ ، قَالَ : صَعْبٌ ، فَلَمَّا عَرَفَ فِي وَجْهِي رَدَّهُ هَدِيَّتِي ، قَالَ : " لَيْسَ بِنَا رَدٌّ عَلَيْكَ ، وَلَكِنَّا حُرُمٌ " .
صعب بن جثامہ لیثی روایت:
انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک گورخر ہدیہ کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مقام ابواء یا مقام ودان میں تھے اور محرم تھے۔ آپ نے وہ گورخر واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اس کے بعد جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے چہرے پر (ناراضی کا اثر) ہدیہ کی واپسی کی وجہ سے دیکھا، تو فرمایا ”ہدیہ واپس کرنا مناسب تو نہ تھا لیکن بات یہ ہے کہ ہم احرام باندھے ہوئے ہیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۵۹۶ کا خلاصہ
اس حدیث کا بنیادی موضوع احرام اور شکار کا ہدیہ ہے۔ صعب بن جثامہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو ایک گورخر ہدیہ کیا، اس وقت آپ صلى الله عليه وسلم ابواء یا ودان میں تھے اور احرام باندھے ہوئے تھے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے وہ ہدیہ واپس کر دیا۔ صعب رضی اللہ عنہ کے چہرے پر واپسی کا اثر دیکھا تو نبی صلى الله عليه وسلم نے وجہ صاف بیان فرمائی کہ ہم تمہارا ہدیہ رد کرنے والے نہیں، لیکن ہم احرام میں ہیں۔ اس حدیث میں دو باتیں بڑی واضح ہیں: ایک یہ کہ ہدیہ دینے والے کی دلجوئی کی گئی، دوسری یہ کہ دینی پابندی کو ترجیح دی گئی۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے وجہ بتا کر دل کا بوجھ کم فرمایا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی پابندی کی وجہ سے ہدیہ واپس کیا جا سکتا ہے۔
- ہدیہ واپس کرتے وقت وجہ بتانا دلجوئی کا سبب بنتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے صعب رضی اللہ عنہ کے احساس کا خیال رکھا۔
- احرام کی حالت میں شکار کے معاملے میں احتیاط کی گئی۔
