صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۲ - ریشمی کپڑا اور استعمال
ریشمی کپڑے کی حدیث: پہننا اور ہدیہ دینا
صحیح بخاری : ۲۶۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۱۲
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : رَأَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ حُلَّةً سِيَرَاءَ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، لَوِ اشْتَرَيْتَهَا فَلَبِسْتَهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَلِلْوَفْدِ قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُهَا مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ فِي الْآخِرَةِ " ، ثُمَّ جَاءَتْ حُلَلٌ فَأَعْطَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ مِنْهَا حُلَّةً ، وَقَالَ : أَكَسَوْتَنِيهَا ، وَقُلْتَ فِي حُلَّةِ عُطَارِدٍ مَا قُلْتَ ؟ فَقَالَ : إِنِّي لَمْ أَكْسُكَهَا لِتَلْبَسَهَا ، فَكَسَاهَا عُمَرُ أَخًا لَهُ بِمَكَّةَ مُشْرِكًا " .
ابن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ مسجد کے دروازے پر ایک ریشمی حلہ (فروخت ہو رہا) ہے۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا، کہ کیا اچھا ہوتا اگر آپ اسے خرید لیتے اور جمعہ کے دن اور وفود کی ملاقات کے موقع پر اسے زیب تن فرما لیا کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا جواب یہ دیا کہ اسے وہی لوگ پہنتے ہیں جن کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔کچھ دنوں بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہاں بہت سے (ریشمی) حلے آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حلہ ان میں سے عمر رضی اللہ عنہ کو بھی عنایت فرمایا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر عرض کیا کہ آپ یہ مجھے پہننے کے لیے عنایت فرما رہے ہیں۔ حالانکہ آپ خود عطارد کے حلوں کے بارے میں جو کچھ فرمانا تھا فرما چکے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا ہے۔ چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے ایک مشرک بھائی کو دے دیا، جو مکے میں رہتا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا موضوع ریشمی لباس، ہدیہ اور استعمال کا فرق ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے مسجد کے دروازے پر ریشمی حلہ دیکھا اور عرض کیا کہ کاش نبی صلى الله عليه وسلم اسے جمعہ اور وفود کے موقع پر پہن لیتے۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی پہنتے ہیں جن کا آخرت میں حصہ نہیں۔ بعد میں جب ریشمی حلے آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک حلہ عمر رضی اللہ عنہ کو دیا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے سوال کیا کہ آپ صلى الله عليه وسلم پہلے اس کے بارے میں فرما چکے ہیں۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے بتایا کہ یہ پہننے کے لیے نہیں دیا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اپنے مشرک بھائی کو دے دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہر ہدیہ پہننے یا ذاتی استعمال کے لیے نہیں ہوتا۔
- کسی چیز کے استعمال کا حکم اس کی ملکیت سے الگ ہو سکتا ہے۔
- صحابہ رضی اللہ عنہم حکم سمجھنے کے لیے سوال کرتے تھے۔
- رشتہ دار کو چیز دینا، جب جائز صورت ہو، ایک عمل ہو سکتا ہے۔
