صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۱ - غیر مسلم بھائی کو ہدیہ
غیر مسلم رشتہ دار کو ہدیہ دینے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۹۸۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۱
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، يَقُولُ : رَأَى عُمَرُ حُلَّةَ سِيَرَاءَ تُبَاعُ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ابْتَعْ هَذِهِ وَالْبَسْهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَإِذَا جَاءَكَ الْوُفُودُ قَالَ : " إِنَّمَا يَلْبَسُ هَذِهِ مَنْ لَا خَلَاقَ لَهُ " فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهَا بِحُلَلٍ فَأَرْسَلَ إِلَى عُمَرَ بِحُلَّةٍ ، فَقَالَ : كَيْفَ أَلْبَسُهَا وَقَدْ قُلْتَ فِيهَا مَا قُلْتَ ، قَالَ : " إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا وَلَكِنْ تَبِيعُهَا أَوْ تَكْسُوهَا " فَأَرْسَلَ بِهَا عُمَرُ إِلَى أَخٍ لَهُ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ .
عبداللہ بن عمر روایت:
عمر رضی اللہ عنہ نے سیراء کا (ایک ریشمی) حلہ بکتے دیکھا تو عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ اسے خرید لیں اور جمعہ کے دن اور جب آپ کے پاس وفود آئیں تو اسے پہنا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے تو وہی پہن سکتا ہے جس کا (آخرت میں) کوئی حصہ نہ ہو۔اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اسی قسم کے کئی حلے آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ایک حلہ عمر رضی اللہ عنہ کے لیے بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں اسے کیسے پہن سکتا ہوں جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پہلے ممانعت فرما چکے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اسے تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تم اسے بیچ دو یا کسی دوسرے کو پہنا دو چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے ایک بھائی کو بھیج دیا جو مکہ مکرمہ میں تھے اور اسلام نہیں لائے تھے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمر رضی اللہ عنہ نے ایک ریشمی حلہ دیکھا اور عرض کیا کہ نبی صلى الله عليه وسلم اسے جمعہ اور وفود کے موقع پر پہن لیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ بعد میں اسی قسم کے حلے آئے تو آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک حلہ عمر رضی اللہ عنہ کو بھیجا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میں اسے کیسے پہنوں جبکہ آپ اس کے بارے میں ممانعت فرما چکے ہیں؟ نبی صلى الله عليه وسلم نے واضح فرمایا کہ میں نے یہ تمہیں پہننے کے لیے نہیں دیا، بلکہ اس لیے دیا ہے کہ تم اسے بیچ دو یا کسی دوسرے کو پہنا دو۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے وہ حلہ اپنے مکہ والے بھائی کو بھیج دیا جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے۔ اس حدیث میں لباس کے حکم، ہدیہ، اور رشتہ داری کا پہلو جمع ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جس چیز کو پہننے کی اجازت نہ ہو، اسے کسی جائز مصرف میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
- دینی حکم سمجھنے کے لیے صحابہ سوال کرتے تھے۔
- رشتہ دار کو ہدیہ دینا حسن سلوک کی صورت ہو سکتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے الفاظ کو سمجھ کر عمل کرنا ضروری ہے۔
