صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۰ - نماز صدقہ پاکدامنی اور صلہ رحمی
نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوت: نماز، صدقہ، پاکدامنی اور صلہ رحمی
صحیح بخاری : ۵۹۸۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۹۸۰
حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ أَخْبَرَهُ ، أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ ، فَقَالَ : يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَأْمُرُنَا بِالصَّلَاةِ وَالصَّدَقَةِ وَالْعَفَافِ وَالصِّلَةِ " .
ابوسفیان روایت:
ہرقل نے انہیں بلا بھیجا تو انہوں نے اسے بتایا کہ وہ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز، صدقہ، پاک دامنی اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۵۹۸۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو سفیان رضی اللہ عنہ کے بیان کا ایک حصہ ہے جو ہرقل کے سامنے ذکر ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم ہمیں نماز، صدقہ، پاکدامنی اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں۔ یہ چند الفاظ اسلام کی عملی تعلیم کو بہت صاف انداز میں پیش کرتے ہیں۔ نماز بندے کا تعلق اللہ سے مضبوط کرتی ہے، صدقہ دوسروں کے حق اور مدد کی طرف متوجہ کرتا ہے، پاکدامنی انسان کے کردار کی حفاظت کرتی ہے، اور صلہ رحمی رشتوں کو جوڑتی ہے۔ حدیث کے متن میں یہی چار باتیں آئی ہیں، اس لیے اسی پیغام کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اس روایت میں اسلام کو عبادت، مالی خیر، اخلاقی پاکیزگی اور خاندانی تعلقات کے دین کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز اسلام کی نمایاں عملی تعلیمات میں شامل ہے۔
- صدقہ دینے کی ترغیب معاشرتی بھلائی سے جڑی ہے۔
- پاکدامنی کو دین میں اہم مقام دیا گیا ہے۔
- صلہ رحمی نبی صلى الله عليه وسلم کی دعوت کا حصہ ہے۔
