صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۳ - دنیا کی آرائش اور ضرورت مند
دنیا کی آرائش سے بچنا اور ضرورت مند کو دینا
صحیح بخاری : ۲۶۱۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۱۳
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَبُو جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتَ فَاطِمَةَ فَلَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهَا ، وَجَاءَ عَلِيٌّ فَذَكَرَتْ لَهُ ذَلِكَ ، فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : إِنِّي رَأَيْتُ عَلَى بَابِهَا سِتْرًا مَوْشِيًّا ، فَقَالَ : مَا لِي وَلِلدُّنْيَا ، فَأَتَاهَا عَلِيٌّ ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهَا ، فَقَالَتْ : لِيَأْمُرْنِي فِيهِ بِمَا شَاءَ ، قَالَ : تُرْسِلُ بِهِ إِلَى فُلَانٍ أَهْلِ بَيْتٍ بِهِمْ حَاجَةٌ " .
ابن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے، لیکن اندر نہیں گئے۔ اس کے بعد علی رضی اللہ عنہ گھر آئے تو فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ذکر کیا (کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف نہیں لائے) علی رضی اللہ عنہ نے اس کا ذکر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں نے اس کے دروازے پر دھاری دار پردہ لٹکا دیکھا تھا (اس لیے واپس چلا آیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے دنیا (کی آرائش و زیبائش) سے کیا سروکار۔علی رضی اللہ عنہ نے آ کر ان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی گفتگو کا ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ مجھے جس طرح کا چاہیں اس سلسلے میں حکم فرمائیں۔ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ بات پہنچی تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں گھر میں اسے بھجوا دیں۔ انہیں اس کی ضرورت ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۳ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع گھر کی آرائش، سادگی اور ضرورت مند کی مدد ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے گئے مگر اندر داخل نہ ہوئے۔ وجہ یہ بتائی کہ دروازے پر دھاری دار پردہ لٹکا دیکھا تھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا سروکار۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا کہ آپ صلى الله عليه وسلم جو حکم دیں وہی کریں گی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ پردہ فلاں گھر والوں کو بھیج دیں، انہیں اس کی ضرورت ہے۔ اس واقعے میں سادگی بھی ہے، ادب بھی ہے، اور ضرورت مند کو چیز پہنچانے کا سبق بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دنیا کی زائد آرائش سے بچنے کا پہلو اس حدیث میں آتا ہے۔
- گھر کی چیز ضرورت مند کو دی جا سکتی ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کی بات سن کر فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اطاعت کا جذبہ دکھایا۔
- چیز کو ضائع کرنے کے بجائے ضرورت والے گھر بھیجنا بہتر ہے۔
