صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۴ - ریشمی حلہ اور حکم کی پابندی
ریشمی حلہ کی حدیث: حکم سمجھتے ہی عمل
صحیح بخاری : ۲۶۱۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۱۴
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ : زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : "أَهْدَى إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةَ سِيَرَاءَ فَلَبِسْتُهَا ، فَرَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ ، فَشَقَقْتُهَا بَيْنَ نِسَائِي " .
علی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک ریشمی حلہ ہدیہ میں دیا تو میں نے اسے پہن لیا۔ لیکن جب غصے کے آثار روئے مبارک پر دیکھے تو اسے اپنی عورتوں میں پھاڑ کر تقسیم کر دیا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۱۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں ایک ریشمی حلہ ہدیہ میں دیا۔ انہوں نے اسے پہن لیا۔ پھر جب انہوں نے نبی صلى الله عليه وسلم کے چہرہ مبارک پر ناراضی کے آثار دیکھے تو فوراً سمجھ گئے کہ اس کا پہننا پسندیدہ نہیں۔ انہوں نے اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ اس حدیث کا سبق یہ ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم نبی صلى الله عليه وسلم کے اشارے کو بھی بہت سنجیدگی سے لیتے تھے۔ یہاں اصل بات ریشمی لباس، ہدیہ، اور حکم کی پابندی ہے۔ جب کوئی بات واضح ہو جائے تو انسان کو اپنے عمل کو درست کر لینا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی صلى الله عليه وسلم کی ناراضی کے اشارے کو بھی صحابہ سنجیدگی سے لیتے تھے۔
- حکم سمجھ آنے کے بعد عمل بدل دینا اچھا رویہ ہے۔
- ہدیہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر استعمال درست ہو۔
- ریشمی کپڑا عورتوں میں تقسیم کر دیا گیا۔
