صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۷ - تحفہ اور دل جوئی
حسن سلوک کی حدیث: تحفہ دینا اور دل خوش کرنا
صحیح بخاری : ۲۶۵۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۵۷
حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ وَرْدَانَ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " قَدِمَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبِيَةٌ ، فَقَالَ لِي أَبِي مَخْرَمَةُ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ عَسَى أَنْ يُعْطِيَنَا مِنْهَا شَيْئًا ، فَقَامَ أَبِي عَلَى الْبَابِ فَتَكَلَّمَ ، فَعَرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَوْتَهُ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ قَبَاءٌ وَهُوَ يُرِيهِ مَحَاسِنَهُ ، وَهُوَ يَقُولُ : خَبَأْتُ هَذَا لَكَ ، خَبَأْتُ هَذَا لَكَ " .
مسور بن مخرمہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں چند قبائیں آئیں تو مجھ سے میرے باپ مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں چلو۔ ممکن ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان میں سے کوئی مجھے بھی عنایت فرمائیں۔میرے والد (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر پہنچ کر) دروازے پر کھڑے ہو گئے اور باتیں کرنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی اور باہر تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک قباء بھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خوبیاں بیان کرنے لگے، اور فرمایا ”میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی، میں نے یہ تمہارے ہی لیے الگ کر رکھی تھی۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۶۵۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ قبائیں آئیں۔ ان کے والد مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میرے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو، شاید آپ ان میں سے کچھ دیں۔ وہ دروازے پر کھڑے ہو کر بات کرنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آواز پہچان لی اور ایک قباء لے کر باہر تشریف لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی خوبیاں دکھا رہے تھے اور فرما رہے تھے کہ میں نے یہ تمہارے لیے الگ رکھی تھی۔ اس حدیث میں تحفہ، دل جوئی، پہچان، اور حسن سلوک کا نہایت نرم انداز سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی دل جوئی فرماتے تھے۔
- تحفہ دینے میں محبت اور خوش دلی کا پہلو ہے۔
- آواز سے پہچان کر بھی اچھا معاملہ کیا گیا۔
- کسی کے دل کو خوش کرنا پسندیدہ اخلاق میں ہے۔
