صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۲ - تعریف میں احتیاط کا نبوی طریقہ
تعریف کی حدیث: کسی کی مدح کیسے کی جائے؟
صحیح بخاری : ۲۶۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۶۶۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : أَثْنَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : وَيْلَكَ ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ ، قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِكَ مِرَارًا ، ثُمَّ قَالَ : " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ ، فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ ، وَلَا أُزَكِّي عَلَى اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ كَذَا وَكَذَا إِنْ كَانَ يَعْلَمُ ذَلِكَ مِنْهُ " .
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم کو عبدالوہاب نے خبر دی، کہا کہ ہم سے خالد حذاء نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی بکرہ نے اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ` ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دوسرے شخص کی تعریف کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا افسوس! تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی۔ کئی مرتبہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح فرمایا) پھر فرمایا کہ اگر کسی کے لیے اپنے کسی بھائی کی تعریف کرنی ضروری ہو جائے تو یوں کہے کہ میں فلاں شخص کو ایسا سمجھتا ہوں، آگے اللہ خوب جانتا ہے، میں اللہ کے سامنے کسی کو بےعیب نہیں کہہ سکتا۔ میں سمجھتا ہوں وہ ایسا ایسا ہے اگر اس کا حال جانتا ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۲۶۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کی سامنے سے حد سے زیادہ تعریف کرنے پر سخت تنبیہ فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ تم نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ ڈالی، یعنی ایسی تعریف اس کے لیے نقصان کا سبب بن سکتی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ تعریف کی حدیث میں ہمیں زبان کا توازن سکھایا گیا ہے۔ اگر کسی بھائی کی تعریف کرنی ہی پڑے تو قطعی انداز میں یہ نہ کہا جائے کہ وہ ضرور پاک، بے عیب یا بہترین ہے۔ بہتر الفاظ یہ ہیں کہ میں اسے ایسا سمجھتا ہوں، اور اللہ اس کا اصل حال خوب جانتا ہے۔ اس میں عاجزی بھی ہے، احتیاط بھی، اور بندے کے بارے میں آخری فیصلہ اللہ کے سپرد کرنا بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی کی تعریف میں حد سے بڑھنا درست نہیں۔
- تعریف کرتے وقت اللہ کے علم کا اقرار کرنا چاہیے۔
- کسی انسان کو اللہ کے سامنے بے عیب قرار نہیں دینا چاہیے۔
- تعریف ضرورت کے مطابق اور محتاط الفاظ میں ہونی چاہیے۔
