صحیح بخاری حدیث ۲۷۶۷ - یتیم کے مال میں خیرخواہی
یتیم کی سرپرستی: مال میں اصلاح، مشورہ اور مناسب خرچ
صحیح بخاری : ۲۷۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۶۷
وَقَالَ لَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، قَالَ : مَا رَدَّ ابْنُ عُمَرَ عَلَى أَحَدٍ وَصِيَّةً ، وَكَانَ ابْنُ سِيرِينَ أَحَبَّ الْأَشْيَاءِ إِلَيْهِ فِي مَالِ الْيَتِيمِ ، أَنْ يَجْتَمِعَ إِلَيْهِ نُصَحَاؤُهُ وَأَوْلِيَاؤُهُ ، فَيَنْظُرُوا الَّذِي هُوَ خَيْرٌ لَهُ ، وَكَانَ طَاوُسٌ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ مِنْ أَمْرِ الْيَتَامَى قَرَأَ وَاللَّهُ يَعْلَمُ الْمُفْسِدَ مِنَ الْمُصْلِحِ سورة البقرة آية 220 . وَقَالَ عَطَاءٌ فِي يَتَامَى الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ ، يُنْفِقُ الْوَلِيُّ عَلَى كُلِّ إِنْسَانٍ بِقَدْرِهِ مِنْ حِصَّتِهِ .
نافع روایت:
ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کوئی وصی بناتا تو وہ کبھی انکار نہ کرتے۔ ابن سیرین تابعی رحمہ اللہ کا محبوب مشغلہ یہ تھا کہ یتیم کے مال و جائیداد کے سلسلے میں ان کے خیر خواہوں اور ولیوں کو جمع کرتے تاکہ ان کے لیے کوئی اچھی صورت پیدا کرنے کے لیے غور کریں۔طاؤس تابعی رحمہ اللہ سے جب یتیموں کے بارے میں کوئی سوال کیا جاتا تو آپ یہ آیت پڑھتے کہ «والله يعلم المفسد من المصلح» ”اور اللہ فساد پیدا کرنے والے اور سنوارنے والے کو خوب جانتا ہے۔“ عطاء رحمہ اللہ نے یتیموں کے بارے میں کہا خواہ وہ معمولی قسم کے لوگوں میں ہوں یا بڑے درجے کے ‘ اس کا ولی اس کے حصہ میں سے جیسے اس کے لائق ہو، ویسا اس پر خرچ کرے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۷۶۷ کا خلاصہ
یہ روایت یتیم کی سرپرستی اور یتیم کے مال کی دیکھ بھال کے بارے میں چند عملی باتیں بتاتی ہے۔ نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کو کوئی وصی بناتا تو وہ انکار نہ کرتے۔ ابن سیرین رحمہ اللہ کو پسند تھا کہ یتیم کے مال کے معاملے میں اس کے خیر خواہ اور ولی جمع ہوں، پھر سوچیں کہ اس کے لیے کون سا راستہ بہتر ہے۔ طاؤس رحمہ اللہ جب یتیموں کے بارے میں سوال سنتے تو آیت پڑھتے کہ اللہ فساد کرنے والے اور اصلاح کرنے والے کو جانتا ہے۔ عطاء رحمہ اللہ نے فرمایا کہ ولی ہر یتیم پر اس کے حصے کے مطابق خرچ کرے۔ یہ روایت بتاتی ہے کہ یتیم کے مال میں ذاتی رائے کافی نہیں، خیرخواہی، مشورہ اور انصاف بھی ضروری ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- یتیم کے مال میں فیصلے خیرخواہی اور اصلاح کی نیت سے ہونے چاہییں۔
- مشورہ کر کے یتیم کے لیے بہتر راستہ تلاش کرنا اچھا طریقہ ہے۔
- ولی کو ہر یتیم پر اس کے حصے اور حال کے مطابق خرچ کرنا چاہیے۔
- اللہ جانتا ہے کہ کون اصلاح چاہتا ہے اور کون بگاڑ پیدا کرتا ہے۔
