صحیح بخاری حدیث ۲۷۶۸ - خادم کے ساتھ نرمی کا نبوی انداز

خادم کے ساتھ حسن سلوک: نبی صلى الله عليه وسلم کی نرمی کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۷۶۸

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ ، فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي ، فَانْطَلَقَ بِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ كَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْكَ ، قَالَ : فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ ، مَا قَالَ لِي لِشَيْءٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَكَذَا ، وَلَا لِشَيْءٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ ، لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَكَذَا " .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کوئی خادم نہیں تھا۔ اس لیے ابوطلحہ (جو میرے سوتیلے باپ تھے) میرا ہاتھ پکڑ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ! انس سمجھ دار بچہ ہے۔ یہ آپ کی خدمت کیا کرے گا۔انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سفر اور حضر میں خدمت کی ‘ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کبھی کسی کام کے بارے میں جسے میں نے کر دیا ہو ‘ یہ نہیں فرمایا کہ یہ کام تم نے اس طرح کیوں کیا ‘ اسی طرح کسی ایسے کام کے متعلق جسے میں نہ کر سکا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تو نے یہ کام اس طرح کیوں نہیں کیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۷۶۸ کا خلاصہ

یہ حدیث خادم کے ساتھ حسن سلوک اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نرم مزاج کی بہت خوب صورت مثال ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ کے پاس کوئی خادم نہیں تھا۔ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ انہیں آپ کی خدمت میں لے گئے اور عرض کیا کہ انس سمجھ دار بچہ ہے، یہ آپ کی خدمت کرے گا۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے سفر اور حضر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کی۔ پھر وہ بتاتے ہیں کہ آپ نے کبھی کسی کیے ہوئے کام پر یہ نہیں فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا، اور نہ کسی نہ کیے ہوئے کام پر یہ فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں نہ کیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام گھر، کام اور تربیت میں نرمی، برداشت اور اچھا برتاؤ ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خادم یا چھوٹے کے ساتھ نرمی سے پیش آنا نبوی اخلاق میں سے ہے۔
  • ہر غلطی یا کمی پر سخت سوال کرنا ضروری نہیں ہوتا۔
  • تربیت میں برداشت اور اچھا رویہ دلوں کو قریب کرتا ہے۔
  • سفر اور گھر دونوں حالتوں میں اخلاق کا معیار قائم رہنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں