صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۰ - ام حرام اور پہلے بحری لشکر کی بشارت

ام حرام رضی اللہ عنہا کو پہلے بحری لشکر کی بشارت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۰۰

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ خَالَتِهِ أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ ، قَالَتْ : نَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَوْمًا قَرِيبًا مِنِّي ، ثُمَّ اسْتَيْقَظَ ، يَتَبَسَّمُ ، فَقُلْتُ : مَا أَضْحَكَكَ ، قَالَ : أُنَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ الْأَخْضَرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الْأَسِرَّةِ ، قَالَتْ : فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا ، ثُمَّ نَامَ الثَّانِيَةَ ، فَفَعَلَ مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : مِثْلَ قَوْلِهَا فَأَجَابَهَا مِثْلَهَا ، فَقَالَتْ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : أَنْتِ مِنَ الْأَوَّلِينَ ، فَخَرَجَتْ مَعَ زَوْجِهَا عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ غَازِيًا أَوَّلَ مَا رَكِبَ الْمُسْلِمُونَ الْبَحْرَ مَعَ مُعَاوِيَةَ ، فَلَمَّا انْصَرَفُوا مِنْ غَزْوِهِمْ قَافِلِينَ فَنَزَلُوا الشَّأْمَ ، فَقُرِّبَتْ إِلَيْهَا دَابَّةٌ لِتَرْكَبَهَا فَصَرَعَتْهَا فَمَاتَتْ " .

ام حرام بنت ملحان روایت:

ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے قریب ہی سو گئے۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے، میں عرض کیا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ فرمایا میری امت کے کچھ لوگ میرے سامنے پیش کئے گئے جو غزوہ کرنے کے لیے اس بہتے دریا پر سوار ہو کر جا رہے تھے جیسے بادشاہ تخت پر چڑھتے ہیں۔میں نے عرض کیا پھر آپ میرے لیے بھی دعا کر دیجئیے کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی۔ پھر دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے اور پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی کیا (بیدار ہوتے ہوئے مسکرائے) ام حرام رضی اللہ عنہا نے پہلے ہی کی طرح اس مرتبہ بھی عرض کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہی جواب دیا۔ام حرام رضی اللہ عنہا نے عرض کیا آپ دعا کر دیں کہ اللہ تعالیٰ مجھے بھی انہیں میں سے بنا دے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم سب سے پہلے لشکر کے ساتھ ہو گی چنانچہ وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ مسلمانوں کے سب سے پہلے بحری بیڑے میں شریک ہوئیں معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں غزوہ سے لوٹتے وقت جب شام کے ساحل پر لشکر اترا تو ام حرام رضی اللہ عنہا کے قریب ایک سواری لائی گئی تاکہ اس پر سوار ہو جائیں لیکن جانور نے انہیں گرا دیا اور اسی میں ان کا انتقال ہو گیا۔

صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۰ کا خلاصہ

یہ روایت بھی ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے قریب سوئے، پھر بیدار ہوئے تو مسکرا رہے تھے۔ ام حرام رضی اللہ عنہا نے پوچھا کہ آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا کہ میری امت کے کچھ لوگ اس سبز دریا پر غزوہ کے لیے سوار دکھائے گئے، جیسے بادشاہ تختوں پر ہوتے ہیں۔ انہوں نے دعا کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی۔ پھر دوسری بار بھی انہوں نے یہی درخواست کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہلے لوگوں میں سے ہو گی۔ پھر وہ اپنے شوہر عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے ساتھ پہلے بحری غزوہ میں نکلیں۔ حدیث میں ان کی واپسی، شام کے ساحل پر اترنا، سواری سے گرنا اور وفات کا ذکر بھی آیا ہے۔ یہ روایت بحری جہاد، ام حرام، دعا، اور اللہ کی راہ میں نکلنے کے موضوع سے جڑی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ام حرام رضی اللہ عنہا نے نیک لشکر میں شامل ہونے کی دعا چاہی۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پہلے لوگوں میں شمار فرمایا۔
  • حدیث میں مسلمانوں کے پہلے بحری سفر کا ذکر آتا ہے۔
  • اللہ کی راہ میں نکلنے والوں کا ذکر عزت کے ساتھ کیا گیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں