صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۷ - سورۃ الاحزاب کی آیت کی حفاظت
سورۃ الاحزاب آیت 23 کی حدیث اور قرآن کی کتابت
صحیح بخاری : ۲۸۰۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۰۷
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ أُرَاهُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ نَسَخْتُ الصُّحُفَ فِي الْمَصَاحِفِ ، فَفَقَدْتُ آيَةً مِنْ سُورَةِ الْأَحْزَابِ كُنْتُ أَسْمَع رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَقْرَأُ بِهَا فَلَمْ أَجِدْهَا إِلَّا مَعَ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي جَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَهَادَتَهُ شَهَادَةَ رَجُلَيْنِ " وَهُوَ قَوْلُهُ " مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ " سورة الأحزاب آية 23 .
زید بن ثابت روایت:
جب قرآن مجید کو ایک مصحف (کتابی) کی صورت میں جمع کیا جانے لگا تو میں نے سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں پائی جس کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے برابر آپ کی تلاوت کرتے ہوئے سنتا رہا تھا جب میں نے اسے تلاش کیا تو) صرف خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے یہاں وہ آیت مجھے ملی۔ یہ خزیمہ رضی اللہ عنہ وہی ہیں جن کی اکیلے کی گواہی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔وہ آیت یہ تھی «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه» (سورۃ الاحزاب: 23) ”مومنوں میں سے کچھ مرد ایسے ہیں جنہوں نے وہ بات سچ کہی جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا۔“
صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے کہ جب قرآن مجید کو مصحف کی صورت میں لکھا جا رہا تھا تو انہیں سورۃ الاحزاب کی ایک آیت نہیں ملی، حالانکہ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پڑھتے ہوئے سنتے تھے۔ تلاش کرنے پر وہ آیت خزیمہ بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس ملی۔ حدیث میں یہ بھی آیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دیا تھا۔ آیت تھی: من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا الله عليه۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع قرآن کی کتابت، احتیاط، گواہی، اور آیت الاحزاب کی حفاظت ہے۔ متن سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ قرآن کے معاملے میں بہت احتیاط کرتے تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قرآن کی کتابت میں صحابہ نے احتیاط سے کام لیا۔
- زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سنی ہوئی آیت کو تلاش کر رہے تھے۔
- خزیمہ رضی اللہ عنہ کی گواہی کو خاص حیثیت دی گئی تھی۔
