صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۸ - پہلے اسلام پھر عمل
عمل کم کیا مگر اجر بہت پایا: اسلام قبول کرنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۲۸۰۸
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۸۰۸
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ الْفَزَارِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ الْبَرَاءَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، يَقُولُ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ بِالْحَدِيدِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُقَاتِلُ وَأُسْلِمُ ، قَالَ : " أَسْلِمْ ، ثُمَّ قَاتِلْ فَأَسْلَمَ ، ثُمَّ قَاتَلَ فَقُتِلَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَمِلَ قَلِيلًا ، وَأُجِرَ كَثِيرًا " .
براء بن عازب روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔ چنانچہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا۔
صحیح بخاری حدیث ۲۸۰۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص زرہ پہنے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف فرمایا: پہلے اسلام لاؤ، پھر جنگ کرو۔ اس شخص نے پہلے اسلام قبول کیا، پھر جنگ میں شریک ہوا اور شہید ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں فرمایا کہ اس نے عمل کم کیا مگر اجر بہت پایا۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع اسلام، نیت، اور عمل کی قبولیت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عمل سے پہلے ایمان کی بنیاد ضروری ہے۔ حدیث میں اجر کا ذکر بھی ہے، مگر وہ اسی واقعے کے ساتھ خاص طور پر بیان ہوا ہے۔ اسے بڑھا چڑھا کر ہر صورت پر لگانا درست نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- عمل سے پہلے صحیح ایمان کی بنیاد ضروری ہے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے اسلام لانے کا حکم دیا۔
- کبھی مختصر عمل بھی اللہ کے ہاں بڑا اجر پا سکتا ہے۔
