صحیح بخاری حدیث ۲۹۱ - جماع سے غسل واجب
جماع کے بعد غسل واجب: حدیث کا صاف حکم
صحیح بخاری : ۲۹۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۲۹۱
وحَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ الْحَسَنِ ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا جَلَسَ بَيْنَ شُعَبِهَا الْأَرْبَعِ ، ثُمَّ جَهَدَهَا فَقَدْ وَجَبَ الْغَسْلُ " ، تَابَعَهُ عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ ، عَنْ شُعْبَةَ مِثْلَهُ ، وَقَالَ مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ مِثْلَهُ .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لیے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا، اس حدیث کی متابعت عمرو نے شعبہ کے واسطہ سے کی ہے اور موسیٰ نے کہا کہ ہم سے ابان نے بیان کیا، کہا ہم سے قتادہ نے بیان کیا، کہا ہم سے حسن بصری نے بیان کیا۔ اسی حدیث کی طرح۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا یہ حدیث اس باب کی تمام احادیث میں عمدہ اور بہتر ہے اور ہم نے دوسری حدیث (عثمان اور ابن ابی کعب کی) صحابہ کے اختلاف کے پیش نظر بیان کی اور غسل میں احتیاط زیادہ ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۲۹۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان ہوا ہے کہ جب مرد عورت کے چہار زانو میں بیٹھ گیا اور اس کے ساتھ جماع کے لیے کوشش کی تو غسل واجب ہو گیا۔ روایت کے آخر میں امام بخاری رحمہ اللہ کی وضاحت بھی موجود ہے کہ یہ حدیث اس باب کی احادیث میں عمدہ اور بہتر ہے، اور غسل میں احتیاط زیادہ ہے۔ اس لیے اس حدیث کا مرکزی موضوع غسل واجب ہونا ہے۔ متن کے مطابق اصل بات یہ ہے کہ مخصوص ازدواجی عمل کے بعد غسل لازم ہو جاتا ہے۔ اس میں غیر ضروری تفصیل شامل کرنے کی ضرورت نہیں۔ لوگ اس مسئلے کو جماع کے بعد غسل، انزال کے بغیر غسل، غسل واجب کب ہوتا ہے، اور غسل جنابت کی حدیث جیسے الفاظ سے تلاش کرتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حدیث میں جماع کی صورت میں غسل واجب ہونے کا حکم بیان ہوا ہے۔
- امام بخاریؒ کی وضاحت کے مطابق غسل زیادہ احتیاط والا عمل ہے۔
- پاکی کے مسائل میں واضح حدیث کو بنیاد بنانا چاہیے۔
- ازدواجی مسائل کو سادہ اور باادب انداز میں سمجھنا چاہیے۔
