صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۰ - بیڑیوں سمیت جنت میں داخل ہونے والے لوگ
بیڑیوں سمیت جنت میں داخل ہونے کی حدیث: ہدایت کا عجیب راستہ
صحیح بخاری : ۳۰۱۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۱۰
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " عَجِبَ اللَّهُ مِنْ قَوْمٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي السَّلَاسِلِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ایسے لوگوں پر اللہ کو تعجب ہو گا ‘ جو جنت میں بیڑیوں سمیت داخل ہوں گے (یعنی مسلمانوں نے کافروں کو پکڑ کر بیڑیوں میں قید کر دیا پھر وہ مسلمان ہو گئے تو اللہ تعالیٰ ان کو اسلام کی وجہ سے جنت میں داخل کر دے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں پر تعجب کریں گے کہ یہ لوگ اپنے کفر کی وجہ سے پابہ زنجیر ہوئے اور اسلام لا کر جنت میں داخل ہو گئے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ ایسے لوگوں پر تعجب فرمائے گا جو جنت میں بیڑیوں سمیت داخل ہوں گے۔ ترجمہ میں اس کا مطلب یہ بتایا گیا کہ کچھ لوگ پہلے کفر کی حالت میں قید کیے گئے، پھر وہ اسلام لے آئے، اور اسلام کی وجہ سے جنت میں داخل ہوئے۔ بیڑیوں سمیت جنت میں داخل ہونے کی حدیث ہدایت کے ایک خاص انداز کو بیان کرتی ہے۔ آدمی کبھی کسی سخت حالت میں آتا ہے، مگر اسی کے بعد اس کے لیے ایمان کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اس متن میں اصل بات یہ ہے کہ انجام اسلام اور جنت تک پہنچا۔ اس لیے اس حدیث کو پڑھتے ہوئے ہدایت کی قدر سمجھ آتی ہے، لیکن اس سے کوئی نیا حکم خود سے نہیں نکالنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ہدایت کبھی انسان تک غیر متوقع راستے سے بھی پہنچ سکتی ہے۔
- حدیث میں قید سے اسلام اور پھر جنت تک پہنچنے کا ذکر ہے۔
- اصل قدر ایمان اور اچھے انجام کی ہے۔
- اس روایت کو اسی خاص مفہوم میں سمجھنا چاہیے جو متن میں بیان ہوا ہے۔
