صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۱ - تین لوگوں کے لیے دوگنا ثواب

دوگنا ثواب پانے والے تین لوگ: آسان اردو شرح

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۱۱

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ حَيٍّ أَبُو حَسَنٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُؤْتَوْنَ أَجْرَهُمْ مَرَّتَيْنِ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ ، فَيُعَلِّمُهَا فَيُحْسِنُ تَعْلِيمَهَا ، وَيُؤَدِّبُهَا فَيُحْسِنُ أَدَبَهَا ، ثُمَّ يُعْتِقُهَا فَيَتَزَوَّجُهَا فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَمُؤْمِنُ أَهْلِ الْكِتَابِ الَّذِي كَانَ مُؤْمِنًا ثُمَّ آمَنَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَهُ أَجْرَانِ ، وَالْعَبْدُ الَّذِي يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ وَيَنْصَحُ لِسَيِّدِهِ " ، ثُمَّ قَالَ الشَّعْبِيُّ : وَأَعْطَيْتُكَهَا بِغَيْرِ شَيْءٍ وَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يَرْحَلُ فِي أَهْوَنَ مِنْهَا إِلَى الْمَدِينَةِ .

ابوموسیٰ اشعری روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین طرح کے آدمی ایسے ہیں جنہیں دوگنا ثواب ملتا ہے۔ اول وہ شخص جس کی لونڈی ہو ‘ وہ اسے تعلیم دے اور تعلیم دینے میں اچھا طریقہ اختیار کرے ‘ اسے ادب سکھائے اور اس میں اچھے طریقے سے کام لے ‘ پھر اسے آزاد کر کے اس سے شادی کر لے تو اسے دہرا اجر ملے گا۔دوسرا وہ مومن جو اہل کتاب میں سے ہو کہ پہلے (اپنے نبی پر ایمان لایا تھا) پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا تو اسے بھی دہرا اجر ملے گا ‘ تیسرا وہ غلام جو اللہ تعالیٰ کے حقوق کی بھی ادائیگی کرتا ہے اور اپنے آقا کے ساتھ بھی بھلائی کرتا ہے۔“اس کے بعد شعبی (راوی حدیث) نے کہا کہ میں نے تمہیں یہ حدیث بلا کسی محنت و مشقت کے دے دی ہے۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا جب اس سے بھی کم حدیث کے لیے مدینہ منورہ تک کا سفر کرنا پڑتا تھا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۱۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین طرح کے لوگوں کا ذکر فرمایا جنہیں دوگنا ثواب ملتا ہے۔ پہلے وہ شخص جس کے پاس لونڈی ہو، وہ اسے اچھی تعلیم دے، اچھا ادب سکھائے، پھر آزاد کر کے اس سے نکاح کر لے۔ دوسرا وہ اہل کتاب مومن ہے جو پہلے اپنے نبی پر ایمان رکھتا تھا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان لایا۔ تیسرا وہ غلام ہے جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے اور اپنے آقا کے ساتھ بھی خیر خواہی کرتا ہے۔ دوگنا ثواب کی حدیث میں ہر مثال خاص ہے، اس لیے اسے اسی حد تک سمجھنا چاہیے جو متن میں آیا ہے۔ اس میں تعلیم، ادب، آزادی، ایمان، اللہ کے حق، اور ذمہ داری نبھانے کی بات صاف طور پر بیان ہوئی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • تعلیم اور ادب اچھے طریقے سے دینا ثواب کا کام ہے۔
  • متن میں آزاد کر کے نکاح کرنے والے کے لیے دو اجر بیان ہوئے ہیں۔
  • اہل کتاب میں سے ایمان لانے والے مومن کے لیے بھی دو اجر کا ذکر ہے۔
  • غلام کے لیے اللہ کے حق اور آقا کی خیر خواہی دونوں کا ذکر آیا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں