صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۹ - ایک شخص کی ہدایت سرخ اونٹوں سے بہتر
ایک شخص کی ہدایت کی حدیث: دعوت اسلام کی بڑی قدر
صحیح بخاری : ۳۰۰۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۰۹
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِيُّ ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي سَهْلٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ : " لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ غَدًا رَجُلًا يُفْتَحُ عَلَى يَدَيْهِ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، فَبَاتَ النَّاسُ لَيْلَتَهُمْ أَيُّهُمْ يُعْطَى فَغَدَوْا كُلُّهُمْ يَرْجُوهُ ، فَقَالَ : أَيْنَ عَلِيٌّ فَقِيلَ يَشْتَكِي عَيْنَيْهِ فَبَصَقَ فِي عَيْنَيْهِ ، وَدَعَا لَهُ فَبَرَأَ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ بِهِ وَجَعٌ فَأَعْطَاهُ ، فَقَالَ : أُقَاتِلُهُمْ حَتَّى يَكُونُوا مِثْلَنَا ، فَقَالَ : انْفُذْ عَلَى رِسْلِكَ حَتَّى تَنْزِلَ بِسَاحَتِهِمْ ، ثُمَّ ادْعُهُمْ إِلَى الْإِسْلَامِ وَأَخْبِرْهُمْ بِمَا يَجِبُ عَلَيْهِمْ فَوَاللَّهِ لَأَنْ يَهْدِيَ اللَّهُ بِكَ رَجُلًا خَيْرٌ لَكَ مِنْ أَنْ يَكُونَ لَكَ حُمْرُ النَّعَمِ " .
سہل بن سعد انصاری روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی لڑائی کے دن فرمایا ”کل میں ایسے شخص کے ہاتھ میں اسلامی جھنڈا دوں گا جس کے ہاتھ پر اسلامی فتح حاصل ہو گی ‘ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور جس سے اللہ اور اس کا رسول بھی محبت رکھتے ہیں۔“ رات بھر سب صحابہ کے ذہن میں یہی خیال رہا کہ دیکھئیے کہ کسے جھنڈا ملتا ہے۔جب صبح ہوئی تو ہر شخص امیدوار تھا ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا ”علی کہاں ہیں؟“ عرض کیا گیا کہ ان کی آنکھوں میں درد ہو گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا مبارک تھوک ان کی آنکھوں میں لگا دیا۔ اور اس سے انہیں صحت ہو گئی ‘ کسی قسم کی بھی تکلیف باقی نہ رہی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کو جھنڈا عطا فرمایا۔علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ کیا میں ان لوگوں سے اس وقت تک نہ لڑوں جب تک یہ ہمارے ہی جیسے یعنی مسلمان نہ ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ہدایت فرمائی کہ یوں ہی چلا جا۔ جب ان کی سرحد میں اترے تو انہیں اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتانا کہ (اسلام کے ناطے) ان پر کون کون سے کام ضروری ہیں۔ اللہ کی قسم! اگر تمہارے ذریعہ اللہ ایک شخص کو بھی مسلمان کر دے تو یہ تمہارے لیے سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۰۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں خیبر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کل جھنڈا ایسے شخص کو دیا جائے گا جس کے ہاتھ پر فتح ہو گی، وہ اللہ اور رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں۔ صبح سب صحابہ امید کر رہے تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بلایا۔ ان کی آنکھوں میں تکلیف تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی اور وہ ٹھیک ہو گئے۔ پھر انہیں جھنڈا دیا اور فرمایا کہ آرام سے جاؤ، وہاں پہنچ کر انہیں اسلام کی دعوت دو اور ان پر لازم کام بتاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تمہارے ذریعے ایک شخص کو ہدایت دے دے تو یہ سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔ ایک شخص کی ہدایت کی حدیث دعوت اسلام کی نرمی، ترتیب اور قدر کو بہت آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دعوت دینے سے پہلے نرمی اور ٹھہراؤ کا حکم دیا گیا۔
- اسلام کی دعوت کے ساتھ ضروری دینی کام بھی بتانے کا حکم ہے۔
- ایک انسان کی ہدایت کو بہت قیمتی بتایا گیا ہے۔
- حضرت علی رضی اللہ عنہ کی محبت اور فضیلت اس حدیث میں بیان ہوئی ہے۔
