صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۱ - بیوی کے ساتھ حج کرنے کا حکم
بیوی کے ساتھ حج: محرم اور سفر کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۰۶۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۶۱
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي كُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا وَامْرَأَتِي حَاجَّةٌ ، قَالَ : " ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ! میرا نام فلاں جہاد میں جانے کے لیے لکھا گیا ہے۔ ادھر میری بیوی حج کرنے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر آ۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۱ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع بیوی کے ساتھ حج کرنا ہے۔ ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور عرض کیا کہ میرا نام فلاں جہاد میں لکھا گیا ہے، جبکہ میری بیوی حج کے لیے جا رہی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واپس جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ اس روایت میں جہاد، حج، بیوی کا سفر اور شوہر کا ساتھ ذکر ہوا ہے۔ اسی لیے لوگ اسے بیوی کے ساتھ حج کی حدیث، عورت کے سفر میں محرم، اور جہاد سے واپس حج کرنے والی روایت کے نام سے تلاش کرتے ہیں۔ حدیث کے الفاظ سے یہی بات سامنے آتی ہے کہ اس خاص صورت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو اپنی بیوی کے ساتھ حج کرنے کا حکم دیا۔ اس سے خاندان کی ذمہ داری اور حج کے سفر میں حفاظت کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیوی کے حج کے سفر میں شوہر کا ساتھ دینا اہم ذمہ داری ہو سکتی ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جہاد کے بجائے بیوی کے ساتھ حج کا حکم دیا۔
- خاندانی ذمہ داری کو دینی کاموں کے اندر نظر انداز نہیں کیا گیا۔
