صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۳ - محرم کے بغیر عورت کے ساتھ تنہائی منع ہے

محرم کے بغیر تنہائی نہ ہو: خلوت کی حدیث

صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۳۳

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَا يَخْلُوَنَّ رَجُلٌ بِامْرَأَةٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ " ، فَقَامَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : " يَا رَسُولَ اللَّهِ ، امْرَأَتِي خَرَجَتْ حَاجَّةً وَاكْتُتِبْتُ فِي غَزْوَةِ كَذَا وَكَذَا ، قَالَ : ارْجِعْ فَحُجَّ مَعَ امْرَأَتِكَ " .

عبداللہ بن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ محرم کے سوا کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے۔ اس پر ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میری بیوی حج کرنے گئی ہے اور میرا نام فلاں غزوہ میں لکھا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر تو واپس جا اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کر۔

صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع محرم اور خلوت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی مرد کسی عورت کے ساتھ تنہائی میں نہ بیٹھے مگر یہ کہ اس کے ساتھ محرم ہو۔ ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، میری بیوی حج کے لیے گئی ہے اور میرا نام ایک غزوہ میں لکھا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ واپس جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف ہیں: پہلی یہ کہ نامحرم مرد اور عورت کی تنہائی سے بچنا ہے، دوسری یہ کہ بیوی کے سفر حج میں شوہر کا ساتھ دینا اس موقع پر اہم قرار دیا گیا۔ یہ محرم کے بغیر سفر، عورت کے ساتھ تنہائی، اور خلوت سے بچنے کی حدیث کے طور پر تلاش کی جاتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نامحرم مرد اور عورت کی تنہائی سے منع کیا گیا ہے۔
  • محرم کی موجودگی عورت کے ساتھ تنہائی کے مسئلے میں اہم ہے۔
  • اس واقعے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابی کو بیوی کے ساتھ حج کرنے کا حکم دیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں