صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۴ - انصار سے محبت اور عورت کی بات سننا
انصار سے محبت: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نرم انداز
صحیح بخاری : ۵۲۳۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۳۴
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " جَاءَتِ امْرَأَةٌ مِنْ الْأَنْصَارِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَا بِهَا ، فَقَالَ : وَاللَّهِ إِنَّكُنَّ لَأَحَبُّ النَّاسِ إِلَيَّ " .
انس بن مالک روایت:
قبیلہ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے لوگوں سے ایک طرف ہو کر تنہائی میں گفتگو کی اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ (یعنی انصار) مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع انصار سے محبت اور لوگوں کی بات سننے کا نرم انداز ہے۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے لوگوں سے ایک طرف ہو کر گفتگو کی۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ، یعنی انصار، مجھے سب لوگوں سے زیادہ عزیز ہو۔ اس حدیث میں انصار کی فضیلت بھی ہے اور یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضرورت مند کی بات سنتے تھے۔ یہاں جو خلوت بیان ہوئی ہے، وہ حدیث کے الفاظ کے مطابق لوگوں سے الگ گفتگو ہے؛ اس سے وہ ناجائز تنہائی مراد نہ لی جائے جو دوسری احادیث میں منع آئی ہے۔ یہ انصار کی محبت، انصاری عورت، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن سلوک کی حدیث ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی ضرورت اور بات کو اہمیت دیتے تھے۔
- انصار کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت عزیز فرمایا۔
- کسی کی بات سننے میں نرمی اور توجہ ایک اچھا اخلاق ہے۔
