صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۲ - دیور سے پردہ اور خلوت سے بچنے کی حدیث
دیور سے پردہ اور عورتوں کے پاس اکیلے جانے سے بچنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۵۲۳۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۵۲۳۲
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِيَّاكُمْ وَالدُّخُولَ عَلَى النِّسَاءِ " ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرَأَيْتَ الْحَمْوَ ؟ قَالَ : " الْحَمْوُ : الْمَوْتُ " .
عقبہ بن عامر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں میں جانے سے بچتے رہو اس پر قبیلہ انصار کے ایک صحابی نے عرض کیا: یا رسول اللہ! دیور کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟ (وہ اپنی بھاوج کے ساتھ جا سکتا ہے یا نہیں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور یا (جیٹھ) کا جانا ہی تو ہلاکت ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۵۲۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع خلوت اور گھر کے رشتوں میں احتیاط ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں میں جانے سے بچتے رہو۔ ایک انصاری صحابی نے پوچھا کہ یا رسول اللہ، دیور کے بارے میں کیا حکم ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دیور تو موت ہے۔ اس جملے میں سخت تنبیہ ہے، یعنی ایسے قریبی رشتوں میں لوگ عام طور پر بے احتیاطی کر لیتے ہیں، اس لیے خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔ حدیث کا پیغام یہ ہے کہ نامحرم رشتہ دار، چاہے گھر کے قریب ہی کیوں نہ ہوں، ان کے ساتھ بے پردہ اور اکیلے میل جول سے بچا جائے۔ یہ دیور سے پردہ، خلوت کی حدیث، اور عورتوں کی حفاظت سے متعلق مشہور روایت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نامحرم رشتہ داروں کے ساتھ اکیلے میل جول سے بچنے کی ہدایت ہے۔
- دیور یا جیٹھ کے معاملے میں بے احتیاطی کو حدیث نے سخت لفظ سے بیان کیا ہے۔
- گھر کے رشتوں میں شرعی حدود کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
