صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۲ - طاق مرتبہ غسل
میت کو طاق غسل دینا: تین، پانچ یا سات
صحیح مسلم : ۲۱۷۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۷۲
وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ وأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ ، قَالَ : وَقَالَتْ حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " اغْسِلْنَهَا وِتْرًا ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا ، قَالَ : وَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ : مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " .
ام عطیہ روایت:
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو طاق مرتبہ غسل دینا تین یا پانچ یا سات مرتبہ۔“ اور ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ”ہم نے تین مینڈھیاں کیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے نقل ہے کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ میت کو طاق مرتبہ غسل دو: تین، پانچ یا سات۔ اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے تین مینڈھیاں یا تین لٹیں بنائیں۔ یہ بیان غسل میت کے آداب کو مختصر مگر صاف انداز میں سامنے لاتا ہے۔ جو لوگ میت کو غسل دینے کا طریقہ اردو میں تلاش کرتے ہیں، ان کے لیے اس حدیث کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ غسل بے ترتیب نہ ہو، بلکہ دینی ہدایت کے مطابق ہو۔ طاق عدد کا ذکر روایت کے الفاظ میں ہے، اور بالوں کے بارے میں تین حصوں کا ذکر بھی اسی واقعے سے جڑا ہے۔ اس سے آخری خدمت میں صفائی، وقار اور احترام کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل میت طاق مرتبہ دینے کا ذکر ہے۔
- تین، پانچ یا سات کی تعداد روایت میں آئی ہے۔
- بالوں کی تین لٹوں کا ذکر بھی موجود ہے۔
- میت کی آخری خدمت میں سلیقہ اور احترام رکھا جائے۔
