صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۱ - طاق غسل
غسل میت میں طاق تعداد: تین، پانچ یا سات
صحیح مسلم : ۲۱۷۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۷۱
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ حَفْصَةَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ بِنَحْوِهِ ، غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ : " ثَلَاثًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سَبْعًا أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكِ ، إِنْ رَأَيْتُنَّ ذَلِكِ " ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ : " وَجَعَلْنَا رَأْسَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " .
ام عطیہ روایت:
سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے ایسا ہی روایت کیا مگر اتنا ہے کہ اس میں یوں کہا: ”غسل دو ان کو تین بار یا پانچ بار یا سات بار یا اس سے زیادہ اگر تم ضرورت سمجھو۔“ اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ہم نے ان کے سر کے بال کی تین لڑیں کر دیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں غسل میت کے دو اہم پہلو بیان ہوئے ہیں۔ پہلے یہ کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تین بار، پانچ بار، سات بار، یا ضرورت سمجھو تو اس سے زیادہ غسل دو۔ دوسرے یہ کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کے بیان کے مطابق سر کے بال تین لٹوں میں کر دیے گئے۔ یہاں اصل لفظوں میں طاق تعداد کا انداز موجود ہے، اس لیے غسل میت کے بارے میں تلاش کرنے والوں کے لیے یہ حدیث خاص اہمیت رکھتی ہے۔ مگر بات کو روایت کے الفاظ تک رکھنا چاہیے: آپ صلى الله عليه وسلم نے ضرورت دیکھنے کی گنجائش بھی رکھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کی صفائی میں اہتمام ہو، مگر عمل سمجھ داری کے ساتھ ہو۔ بالوں کا ذکر بھی اسی سلیقے اور احترام کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل میت کے لیے تین، پانچ یا سات کا ذکر آیا ہے۔
- ضرورت ہو تو زیادہ غسل دینے کی گنجائش بھی بیان ہوئی۔
- سر کے بال تین لٹوں میں کیے گئے۔
- صفائی، احترام اور مناسب فیصلہ تینوں باتیں روایت میں ملتی ہیں۔
