صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۰ - صاحبزادی کا غسل
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کا غسل: غسل میت کی رہنمائی
صحیح مسلم : ۲۱۷۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۷۰
وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ . ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " تُوُفِّيَتْ إِحْدَى بَنَاتِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ، وَفِي حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ ، قَالَتْ : أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَغْسِلُ ابْنَتَهُ ، وَفِي حَدِيثِ مَالِكٍ ، قَالَتْ : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَتِ ابْنَتُهُ ، بِمِثْلِ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ،
ام عطیہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی رضی اللہ عنہا کی وفات ہو گئی اور ابن علیہ کی روایت میں ہے کہ ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ہم ان کی صاحبزادی رضی اللہ عنہا کو غسل دیتی تھیں اور مالک کی روایت میں ہے کہ داخل ہوئے ہم پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی رضی اللہ عنہا کی وفات ہوئی، جیسے یزید بن زریع کی حدیث میں ایوب سے مروی ہے اور ایوب محمد سے، وہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۷۰ کا خلاصہ
یہ روایت بھی غسل میت کے اسی واقعے کی تائید کرتی ہے۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی ایک صاحبزادی کا انتقال ہوا۔ بعض روایتوں میں الفاظ ہیں کہ آپ صلى الله عليه وسلم ہمارے پاس آئے جب ہم ان کی صاحبزادی کو غسل دے رہی تھیں، اور بعض میں ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم اس وقت داخل ہوئے جب ان کی صاحبزادی کا انتقال ہوا تھا۔ روایت کا مقصد وہی ہدایت بیان کرنا ہے جو پچھلی حدیث میں آئی: غسل میں طاق تعداد، پانی، بیری، کافور اور مناسب ترتیب۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ میت کے غسل کا معاملہ سنجیدگی سے لیا گیا اور رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے خود اس کی رہنمائی فرمائی۔ اس میں گھر کے غم کا پہلو بھی ہے اور دینی طریقے کا بیان بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی صاحبزادی کے غسل کے معاملے میں رہنمائی فرمائی۔
- یہ روایت اسی واقعے کو مختلف الفاظ سے بیان کرتی ہے۔
- غسل میت میں طاق تعداد اور صفائی کا اہتمام سمجھ آتا ہے۔
- غم کے وقت بھی شرعی طریقے کی طرف رجوع کیا گیا۔
