صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۹ - میت کے بال
میت کے بال سنوارنا: تین لٹوں والی حدیث
صحیح مسلم : ۲۱۶۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۱۶۹
وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ ، قَالَتْ : " مَشَطْنَاهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ " ،
ام عطیہ روایت:
ہم نے کنگھی کر کے ان کے بالوں کی تین لڑیں کیں۔
صحیح مسلم حدیث ۲۱۶۹ کا خلاصہ
اس مختصر روایت کا موضوع میت کے بالوں کو سنوارنا ہے۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی صاحبزادی کے بال کنگھی کر کے تین لٹیں بنائیں۔ یہ بات اسی غسل میت کے واقعے سے جڑی ہوئی ہے جس میں پانی، بیری کے پتے، کافور اور طاق تعداد کا ذکر آیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ غسل میت میں صفائی کے ساتھ سلیقہ بھی رکھا گیا۔ روایت مختصر ہے، اس لیے اس سے زیادہ دعویٰ نہیں کرنا چاہیے۔ بس اتنا کہا جا سکتا ہے کہ میت کو غسل دیتے وقت لاپرواہی نہیں، بلکہ ادب، نرمی اور ترتیب کا خیال رکھا گیا۔ عام زبان میں، یہ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ آخری خدمت بھی احترام کے ساتھ ہونی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل کے بعد بال کنگھی کیے گئے۔
- بالوں کو تین لٹوں میں کیا گیا۔
- میت کے معاملے میں صفائی کے ساتھ سلیقہ بھی رکھا گیا۔
- مختصر روایت سے اتنی ہی بات لی جائے جتنی اس میں بیان ہے۔
