صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۷ - مال کی واپسی
دشمن سے واپس ملنے والے مال کی حدیث: حق دار کو حق لوٹانا
صحیح بخاری : ۳۰۶۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۶۷
قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " ذَهَبَ فَرَسٌ لَهُ فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ فَرُدَّ عَلَيْهِ فِي زَمَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَقَ عَبْدٌ لَهُ ، فَلَحِقَ بِالرُّومِ فَظَهَرَ عَلَيْهِمُ الْمُسْلِمُونَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
´اور عبداللہ بن نمیر نے کہا ‘ کہ ہم سے عبیداللہ نے بیان کیا ‘ ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ` ان کا ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا اور دشمنوں نے اس کو پکڑ لیا تھا۔ پھر مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو ان کا گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کا ہے۔ اسی طرح ان کے ایک غلام نے بھاگ کر روم میں پناہ حاصل کر لی تھی۔ پھر جب مسلمانوں کو اس ملک پر غلبہ حاصل ہوا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ان کا غلام انہیں واپس کر دیا۔ یہ واقعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کا ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث مال کی واپسی اور حق دار کو اس کا حق دینے کے بارے میں ایک واضح واقعہ بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک گھوڑا بھاگ گیا تھا، دشمن نے اسے پکڑ لیا، پھر جب مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوا تو وہ گھوڑا انہیں واپس کر دیا گیا۔ یہی روایت ایک غلام کے بارے میں بھی ہے جو بھاگ کر روم چلا گیا تھا۔ بعد میں مسلمانوں کو اس ملک پر غلبہ ملا تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے وہ غلام بھی عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو واپس کر دیا۔ حدیث میں اصل نکتہ یہ ہے کہ جو چیز اصل مالک کی ہو اور واپس مل جائے، اسے حق دار تک پہنچایا گیا۔ یہ امانت، انصاف اور حق کی پہچان کا سبق دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل مالک کا حق پہچاننا ضروری ہے۔
- دشمن کے قبضے سے ملنے والی چیز بھی حق دار کو لوٹائی جا سکتی ہے۔
- خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے مالک کو اس کی چیز واپس کی۔
- انصاف کا تعلق جنگی حالات میں بھی باقی رہتا ہے۔
