صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۹ - واپس ملا ہوا مال

خالد بن ولید اور ابن عمر کا گھوڑا: واپس ملا ہوا حق

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۶۹

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " أَنَّهُ كَانَ عَلَى فَرَسٍ يَوْمَ لَقِيَ الْمُسْلِمُونَ وَأَمِيرُ الْمُسْلِمِينَ يَوْمَئِذٍ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ بَعَثَهُ أَبُو بَكْرٍ ، فَأَخَذَهُ الْعَدُوُّ فَلَمَّا هُزِمَ الْعَدُوُّ رَدَّ خَالِدٌ فَرَسَهُ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

جس دن اسلامی لشکر کی مڈبھیڑ (رومیوں سے) ہوئی تو وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے۔ سالار فوج ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف سے خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر گھوڑے کو دشمنوں نے پکڑ لیا ‘ لیکن جب انہیں شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے گھوڑا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو واپس کر دیا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۶۹ کا خلاصہ

یہ حدیث ابن عمر رضی اللہ عنہما کے گھوڑے کے بارے میں ہے۔ وہ ایک گھوڑے پر سوار تھے، مسلمانوں کی رومیوں سے مڈبھیڑ ہوئی، اور اس وقت مسلمانوں کے امیر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے جنہیں ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بھیجا تھا۔ دشمن نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کا گھوڑا پکڑ لیا، پھر جب دشمن کو شکست ہوئی تو خالد رضی اللہ عنہ نے وہ گھوڑا ان کو واپس کر دیا۔ یہ واقعہ بہت مختصر ہے، مگر اس میں حق دار کو حق واپس دینے کا صاف پہلو ہے۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ جنگی حالات میں بھی ذاتی ملکیت کی پہچان اور واپسی کا معاملہ نظر انداز نہیں کیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دشمن کی شکست کے بعد بھی حق دار کو پہچانا گیا۔
  • قیادت کا کام انصاف کے ساتھ فیصلے کرنا ہے۔
  • کسی کی چیز واپس ملے تو اسے مالک تک پہنچانا چاہیے۔
  • یہ واقعہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے منصفانہ عمل کو دکھاتا ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں