صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۱ - بچوں سے شفقت
ام خالد رضی اللہ عنہا کی حدیث: بچوں سے نرمی اور دعا
صحیح بخاری : ۳۰۷۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۷۱
حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ خَالِدٍ بِنْتِ خَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَتْ : أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ أَبِي وَعَلَيَّ قَمِيصٌ أَصْفَرُ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَنَهْ سَنَهْ " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَهِيَ بِالْحَبَشِيَّةِ حَسَنَةٌ ، قَالَتْ : فَذَهَبْتُ أَلْعَبُ بِخَاتَمِ النُّبُوَّةِ فَزَبَرَنِي أَبِي ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " دَعْهَا " ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَبْلِي وَأَخْلِفِي ، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي ، ثُمَّ أَبْلِي وَأَخْلِفِي " ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَبَقِيَتْ حَتَّى ذَكَرَ .
ام خالد بنت خالد بن سعید روایت:
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوئی ‘ میں اس وقت ایک زرد رنگ کی قمیص پہنے ہوئے تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر فرمایا ”سنہ سنہ “ عبداللہ نے کہا یہ لفظ حبشی زبان میں عمدہ کے معنے میں بولا جاتا ہے۔ انہوں نے بیان کیا کہ پھر میں مہر نبوت کے ساتھ (جو آپ کے پشت پر تھی) کھیلنے لگی تو میرے والد نے مجھے ڈانٹا ‘ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے مت ڈانٹو ‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام خالد کو (درازی عمر کی) دعا دی کہ اس قمیص کو خوب پہن اور پرانی کر ‘ پھر پہن اور پرانی کر ‘ اور پھر پہن اور پرانی کر ‘ عبداللہ نے کہا کہ چنانچہ یہ قمیص اتنے دنوں تک باقی رہی کہ زبانوں پر اس کا چرچا آ گیا۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۱ کا خلاصہ
یہ ام خالد رضی اللہ عنہا کی حدیث بچوں سے شفقت کا نہایت پیارا نمونہ ہے۔ وہ اپنے والد کے ساتھ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں آئیں اور زرد قمیص پہنے ہوئے تھیں۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے حبشی لفظ سنہ سنہ فرمایا، جس کا معنی اچھا بتایا گیا۔ پھر ام خالد رضی اللہ عنہا مہر نبوت کے ساتھ کھیلنے لگیں تو ان کے والد نے انہیں ڈانٹا، مگر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو۔ اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے ان کے لیے قمیص پہننے اور پرانی کرنے کی دعا فرمائی۔ اس حدیث میں بچے سے اس کی سمجھ کے مطابق بات کرنا، اسے نرمی سے سنبھالنا، اور اچھے لباس پر دعا دینا دکھائی دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں سے نرمی اور محبت سے پیش آنا چاہیے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے بچی کی معصوم حرکت پر سختی پسند نہیں فرمائی۔
- اچھے لباس پر دعا دینا حدیث سے ثابت ہے۔
- بچے کی زبان اور سمجھ کے مطابق بات کرنا خوبصورت انداز ہے۔
