صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۲ - صدقہ کا حکم
صدقہ کی کھجور والی حدیث: آلِ نبی صلى الله عليه وسلم کے لیے پاک رہنمائی
صحیح بخاری : ۳۰۷۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۷۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَنَّ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ أَخَذَ تَمْرَةً مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ فَجَعَلَهَا فِي فِيهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْفَارِسِيَّةِ : " كِخْ كِخْ أَمَا تَعْرِفُ أَنَّا لَا نَأْكُلُ الصَّدَقَةَ " .
ابوہریرہ روایت:
حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجور میں سے (جو بیت المال میں آئی تھی) ایک کھجور اٹھا لی اور اپنے منہ کے قریب لے گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فارسی زبان کا یہ لفظ کہہ کر روک دیا کہ «كخ كخ» کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے ہیں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۷۲ کا خلاصہ
یہ صدقہ کی کھجور والی حدیث بہت واضح ہے۔ حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے صدقہ کی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھائی اور منہ کے قریب لے گئے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے انہیں فوراً روک دیا اور فرمایا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ہم صدقہ نہیں کھایا کرتے۔ حدیث میں بچے کی تربیت، حلال و حرام کی احتیاط، اور گھر والوں کو دینی حکم سمجھانے کا نرم مگر صاف انداز موجود ہے۔ یہاں بات صرف ایک کھجور کی تھی، مگر نبی صلى الله عليه وسلم نے اصول واضح فرما دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دینی تربیت چھوٹی عمر سے اور چھوٹے واقعات میں بھی کی جاتی ہے، تاکہ بچہ صحیح بات سیکھ لے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بچوں کو دینی حدود وقت پر سمجھانی چاہئیں۔
- صدقہ کے مال کے بارے میں نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنے گھر کے لیے خاص حکم بتایا۔
- چھوٹی چیز بھی حکم کے خلاف ہو تو اسے روکا جا سکتا ہے۔
- تربیت میں مختصر، صاف اور سمجھ آنے والی بات مؤثر ہوتی ہے۔
