صحیح بخاری حدیث ۳۰۸ - حیض کے خون سے کپڑا پاک کرنا

حیض کے خون سے کپڑا پاک کرنے کا عملی طریقہ

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۸

حَدَّثَنَا أَصْبَغُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ ، ثُمَّ تَقْتَرِصُ الدَّمَ مِنْ ثَوْبِهَا عِنْدَ طُهْرِهَا فَتَغْسِلُهُ وَتَنْضَحُ عَلَى سَائِرِهِ ، ثُمَّ تُصَلِّي فِيهِ " .

عائشہ روایت:

ہمیں حیض آتا تو کپڑے کو پاک کرتے وقت ہم خون کو مل دیتے، پھر اس جگہ کو دھو لیتے اور تمام کپڑے پر پانی بہا دیتے اور اسے پہن کر نماز پڑھتے۔

صحیح بخاری حدیث ۳۰۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بتاتی ہیں کہ جب انہیں حیض آتا اور کپڑے کو پاک کرنا ہوتا تو وہ خون کو مل دیتیں، پھر اس جگہ کو دھو لیتیں، پھر پورے کپڑے پر پانی بہا دیتیں اور اسے پہن کر نماز پڑھتیں۔ یہ روایت کپڑے کی پاکی کے بارے میں گھر کے اندر کا عملی طریقہ بتاتی ہے۔ اس میں کوئی مشکل عمل نہیں، بلکہ عام پانی اور صفائی کا طریقہ ہے۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ حیض کے خون سے لگے کپڑے کو درست طریقے سے پاک کیا جا سکتا ہے۔ کپڑا صرف داغ لگنے سے نماز کے لیے ہمیشہ منع نہیں ہو جاتا۔ جب خون والی جگہ صاف کر دی جائے اور کپڑے پر پانی بہا دیا جائے تو اسے پہن کر نماز پڑھی جا سکتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • خون والی جگہ کو مل کر دھونا پاکی کا طریقہ ہے۔
  • کپڑے پر پانی بہا کر اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
  • پاکی کے بعد اسی کپڑے میں نماز پڑھنا روایت میں بیان ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں