صحیح بخاری حدیث ۳۱۲ - ایک کپڑے میں حیض اور صفائی
ایک کپڑے میں حیض: خون لگنے پر صفائی کا آسان طریقہ
صحیح بخاری : ۳۱۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۲
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَالَتْ عَائِشَةُ " مَا كَانَ لِإِحْدَانَا إِلَّا ثَوْبٌ وَاحِدٌ تَحِيضُ فِيهِ ، فَإِذَا أَصَابَهُ شَيْءٌ مِنْ دَمٍ ، قَالَتْ : بِرِيقِهَا فَقَصَعَتْهُ بِظُفْرِهَا " .
عائشہ روایت:
ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا، جسے ہم حیض کے وقت پہنتے تھے۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتے اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتے۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس صرف ایک کپڑا ہوتا تھا جسے ہم حیض کے وقت پہنتے تھے۔ جب اس میں خون لگ جاتا تو اس پر تھوک ڈال لیتے اور پھر اسے ناخنوں سے مسل دیتے۔ یہ روایت اس زمانے کی سادگی اور کپڑوں کی کمی کو بھی بتاتی ہے، مگر اصل بات کپڑے سے خون کے اثر کو دور کرنا ہے۔ حدیث کا موضوع حیض کا خون، کپڑے کی صفائی اور آسانی ہے۔ اس میں پانی کا تفصیل سے ذکر نہیں، بلکہ خون لگنے پر فوری طور پر تھوک اور ناخن سے مسلنے کا عمل بیان ہوا ہے۔ اس سے یہ سمجھ آتا ہے کہ پاکیزگی کے لیے موجود چیزوں سے صفائی کی کوشش کی جاتی تھی، اور کپڑا معمولی داغ سے چھوڑ نہیں دیا جاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کے خون کو کپڑے سے دور کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
- کپڑوں کی کمی کے باوجود پاکیزگی کا خیال رکھا جاتا تھا۔
- گھر کے عام حالات میں بھی صفائی کو نظر انداز نہیں کیا گیا۔
