صحیح بخاری حدیث ۳۱۱ - امہات المؤمنین کا استحاضہ میں اعتکاف
استحاضہ میں اعتکاف: امہات المؤمنین کی روایت
صحیح بخاری : ۳۱۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۱
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، " أَنَّ بَعْضَ أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ اعْتَكَفَتْ وَهِيَ مُسْتَحَاضَةٌ " .
عائشہ روایت:
بعض امہات المؤمنین نے اعتکاف کیا حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں۔ (اوپر والی روایت میں ان ہی کا ذکر ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۱ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ بعض امہات المؤمنین نے اعتکاف کیا، حالانکہ وہ مستحاضہ تھیں۔ اگرچہ روایت کے الفاظ مختصر ہیں، مگر بات بڑی واضح ہے۔ موضوع استحاضہ اور اعتکاف ہے۔ اس میں حیض کا لفظ نہیں آیا، اس لیے استحاضہ کو حیض کے ساتھ نہ ملایا جائے۔ پچھلی روایات کے ساتھ یہ حدیث سمجھ آتی ہے کہ مستحاضہ عورت نے خون آنے کے باوجود اعتکاف میں شرکت کی۔ اس سے عبادت کے معاملے میں استحاضہ کی الگ حیثیت سامنے آتی ہے۔ حدیث ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دینی مسائل میں الفاظ کا فرق اہم ہوتا ہے۔ حیض، استحاضہ، نماز اور اعتکاف کے احکام ایک جیسے نہیں سمجھے جا سکتے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مستحاضہ عورت کے اعتکاف کا ذکر حدیث میں موجود ہے۔
- استحاضہ کو حیض کے برابر نہیں سمجھنا چاہیے۔
- دینی حکم سمجھنے کے لیے حدیث کے لفظوں پر دھیان ضروری ہے۔
