صحیح بخاری حدیث ۳۱۰ - استحاضہ میں نماز ادا کرنا

استحاضہ میں نماز: خون اور زردی کے باوجود عبادت

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۰

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتِ : " اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةٌ مِنْ أَزْوَاجِهِ ، فَكَانَتْ تَرَى الدَّمَ وَالصُّفْرَةَ وَالطَّسْتُ تَحْتَهَا وَهِيَ تُصَلِّي " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک نے اعتکاف کیا۔ وہ خون اور زردی (نکلتے) دیکھتیں، طشت ان کے نیچے ہوتا اور نماز ادا کرتی تھیں۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے ساتھ آپ صلى الله عليه وسلم کی ازواج میں سے ایک نے اعتکاف کیا۔ وہ خون اور زردی دیکھتیں، طشت ان کے نیچے ہوتا اور وہ نماز ادا کرتی تھیں۔ اس روایت کا موضوع استحاضہ، زردی، طشت اور نماز ہے۔ یہاں صاف طور پر نماز کا ذکر آیا ہے، اس لیے یہ روایت استحاضہ کے مسئلے کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ حدیث بتاتی ہے کہ ایسی حالت میں صفائی کا اہتمام کیا گیا، مگر عبادت بند نہیں کی گئی۔ یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ متن میں حیض نہیں بلکہ خون اور زردی کے ساتھ استحاضہ کا پس منظر ہے۔ اس لیے ہر عورت کو اپنے حال کو حیض یا استحاضہ کے فرق سے سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • استحاضہ کی حالت میں نماز ادا کرنے کا ذکر حدیث میں آیا ہے۔
  • خون یا زردی کے لیے صفائی کا انتظام کیا گیا۔
  • طشت رکھنا عملی احتیاط اور پاکیزگی کی صورت تھی۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں