صحیح بخاری حدیث ۳۱۵ - غسل حیض میں حیا اور تعلیم
غسل حیض کی تعلیم: حیا کے ساتھ واضح رہنمائی
صحیح بخاری : ۳۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۵
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ : حَدَّثَنَا مَنْصُورٌ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ ، قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ أَغْتَسِلُ مِنَ الْمَحِيضِ ؟ قَالَ : " خُذِي فِرْصَةً مُمَسَّكَةً فَتَوَضَّئِي ثَلَاثًا ، ثُمَّ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَحْيَا فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ ، أَوْ قَالَ : تَوَضَّئِي بِهَا ، فَأَخَذْتُهَا فَجَذَبْتُهَا فَأَخْبَرْتُهَا بِمَا يُرِيدُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عائشہ روایت:
انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک مشک میں بسا ہوا کپڑا لے اور پاکی حاصل کر، یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دفعہ فرمایا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم شرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا، یا فرمایا کہ اس سے پاکی حاصل کر۔ پھر میں نے انہیں پکڑ کر کھینچ لیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو بات کہنی چاہتے تھے وہ میں نے اسے سمجھائی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک انصاریہ عورت نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ میں حیض کا غسل کیسے کروں؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ مشک میں بسا ہوا کپڑا لے کر پاکی حاصل کرو، اور یہ بات تین دفعہ فرمائی۔ پھر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کو حیا آئی اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس عورت کو پکڑ کر کھینچا اور وہ بات سمجھا دی جو نبی صلى الله عليه وسلم بتانا چاہتے تھے۔ اس حدیث کا اصل موضوع غسل حیض، پاکی اور حیا ہے۔ اس میں یہ خوبصورت انداز ملتا ہے کہ شرعی مسئلہ چھپایا نہیں گیا، مگر الفاظ میں حیا رکھی گئی۔ عورتوں کے خاص مسائل میں عورت ہی کے ذریعے وضاحت کا انداز بھی سامنے آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- غسل حیض کے بعد پاکی کے لیے خوشبو دار کپڑے کا ذکر آیا۔
- حیا کے ساتھ دینی مسئلہ سمجھانا نبی صلى الله عليه وسلم کا ادب تھا۔
- عورتوں کے خاص مسائل میں واضح رہنمائی کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا۔
