صحیح بخاری حدیث ۳۱۶۴ - وعدہ پورا کرنے کی خوبصورت مثال

وعدہ پورا کرنے کی حدیث اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا عمل

صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۶۴

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِي : " لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ قَدْ أَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، فَلَمَّا قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَ مَالُ الْبَحْرَيْنِ ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ : مَنْ كَانَتْ لَهُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ فَلْيَأْتِنِي فَأَتَيْتُهُ ، فَقُلْتُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ ، قَالَ لِي : لَوْ قَدْ جَاءَنَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ لَأَعْطَيْتُكَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، فَقَالَ لِي : احْثُهُ فَحَثَوْتُ حَثْيَةً ، فَقَالَ لِي : عُدَّهَا فَعَدَدْتُهَا فَإِذَا هِيَ خَمْسُ مِائَةٍ فَأَعْطَانِي أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍ "

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر ہمارے پاس بحرین سے روپیہ آیا، تو میں تمہیں اتنا، اتنا، اتنا (تین لپ) دوں گا۔پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی اور اس کے بعد بحرین کا روپیہ آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اگر کسی سے کوئی دینے کا وعدہ کیا ہو تو وہ ہمارے پاس آئے۔ چنانچہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا روپیہ ہمارے یہاں آیا تو میں تمہیں اتنا، اتنا اور اتنا دوں گا۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ اچھا ایک لپ بھرو، میں نے ایک لپ بھری، تو انہوں نے فرمایا کہ اسے شمار کرو، میں نے شمار کیا تو پانچ سو تھا، پھر انہوں نے مجھے ڈیڑھ ہزار عنایت فرمایا۔

صحیح بخاری حدیث ۳۱۶۴ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع وعدہ پورا کرنا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جابر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا کہ اگر بحرین کا مال آیا تو آپ انہیں تین لپ مال دیں گے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بحرین کا مال آیا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اعلان کیا کہ جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی وعدہ فرمایا ہو وہ آئے۔ جابر رضی اللہ عنہ آئے اور اپنا واقعہ بیان کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے صرف بات سن کر اسے رد نہیں کیا بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کو پورا کیا۔ ایک لپ پانچ سو نکلا، اس حساب سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ کو ڈیڑھ ہزار دیا۔ یہ حدیث وعدہ نبھانے، امانت داری، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کا خیال رکھنے کی بہت واضح تعلیم دیتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • وعدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے وعدے کو صحابہ نے بڑی امانت سمجھا۔
  • مالی معاملات میں صاف گوئی اور اعتماد اہم ہے۔
  • حکمران یا ذمہ دار شخص کو لوگوں کے جائز دعووں کو سننا چاہیے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں