صحیح بخاری حدیث ۳۱۷ - حیض کی وجہ سے عمرہ کا بدل
حیض کی وجہ سے عمرہ رہ جائے تو عائشہؓ کی حدیث سے رہنمائی
صحیح بخاری : ۳۱۷
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۷
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مُوَافِينَ لِهِلَالِ ذِي الْحِجَّةِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُهِلَّ بِعُمْرَةٍ فَلْيُهْلِلْ ، فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي أَهْدَيْتُ لَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ، فَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِعُمْرَةٍ ، وَأَهَلَّ بَعْضُهُمْ بِحَجٍّ ، وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ ، فَشَكَوْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : دَعِي عُمْرَتَكِ وَانْقُضِي رَأْسَكِ وَامْتَشِطِي وَأَهِلِّي بِحَجٍّ ، فَفَعَلْتُ حَتَّى إِذَا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ أَرْسَلَ مَعِي أَخِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، فَخَرَجْتُ إِلَى التَّنْعِيمِ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ مَكَانَ عُمْرَتِي " ، قَالَ هِشَامٌ : وَلَمْ يَكُنْ فِي شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ هَدْيٌ وَلَا صَوْمٌ وَلَا صَدَقَةٌ .
عائشہ روایت:
ہم ذی الحجہ کا چاند دیکھتے ہی نکلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے تو اسے عمرہ کا احرام باندھ لینا چاہیے۔ کیونکہ اگر میں ہدی ساتھ نہ لاتا تو میں بھی عمرہ کا احرام باندھتا۔ اس پر بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ میں بھی ان لوگوں میں سے تھی جنہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ مگر عرفہ کا دن آ گیا اور میں حیض کی حالت میں تھی۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق شکایت کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ اور اپنا سر کھول اور کنگھا کر اور حج کا احرام باندھ لے۔میں نے ایسا ہی کیا۔ یہاں تک کہ جب حصبہ کی رات آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے بھائی عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا۔ میں تنعیم میں گئی اور وہاں سے اپنے عمرہ کے بدلے دوسرے عمرہ کا احرام باندھا۔ ہشام نے کہا کہ ان میں سے کسی بات کی وجہ سے بھی نہ ہدی واجب ہوئی اور نہ روزہ اور نہ صدقہ۔ (تنعیم حد حرم سے قریب تین میل دور ایک مقام کا نام ہے)۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ وہ ذی الحجہ کا چاند دیکھ کر نکلیں۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس کا دل چاہے عمرہ کا احرام باندھ لے، اور اگر آپ صلى الله عليه وسلم ہدی ساتھ نہ لاتے تو آپ بھی عمرہ کا احرام باندھتے۔ بعض صحابہ نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عمرہ کا احرام باندھا تھا، مگر عرفہ کا دن آ گیا اور وہ حیض کی حالت میں تھیں۔ انہوں نے شکایت کی تو نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ عمرہ چھوڑ دو، سر کھولو، کنگھا کرو اور حج کا احرام باندھ لو۔ بعد میں حصبہ کی رات وہ اپنے بھائی عبدالرحمٰن کے ساتھ تنعیم گئیں اور اپنے عمرہ کے بدلے عمرہ کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیض کی وجہ سے عمرہ چھوڑ کر حج کا احرام باندھنے کا ذکر آیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے سیدہ عائشہؓ کو عملی حل بتایا۔
- اس واقعے میں ہدی، روزہ یا صدقہ لازم ہونے کا ذکر نہیں آیا۔
