صحیح بخاری حدیث ۳۱۹ - حج میں حیض اور تنعیم سے عمرہ
حج میں حیض آنا: عمرہ چھوڑ کر حج مکمل کرنے کی روایت
صحیح بخاری : ۳۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۹
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ عُقَيْلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ ، فَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ وَمِنَّا مَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ ، فَقَدِمْنَا مَكَّةَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَلَمْ يُهْدِ فَلْيُحْلِلْ ، وَمَنْ أَحْرَمَ بِعُمْرَةٍ وَأَهْدَى فَلَا يَحِلُّ حَتَّى يَحِلَّ بِنَحْرِ هَدْيِهِ ، وَمَنْ أَهَلَّ بِحَجٍّ فَلْيُتِمَّ حَجَّهُ ، قَالَتْ : فَحِضْتُ فَلَمْ أَزَلْ حَائِضًا حَتَّى كَانَ يَوْمُ عَرَفَةَ وَلَمْ أُهْلِلْ إِلَّا بِعُمْرَةٍ ، فَأَمَرَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَنْقُضَ رَأْسِي وَأَمْتَشِطَ وَأُهِلَّ بِحَجٍّ وَأَتْرُكَ الْعُمْرَةَ ، فَفَعَلْتُ ذَلِكَ حَتَّى قَضَيْتُ حَجِّي ، فَبَعَثَ مَعِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرٍ ، وَأَمَرَنِي أَنْ أَعْتَمِرَ مَكَانَ عُمْرَتِي مِنَ التَّنْعِيمِ " .
عائشہ روایت:
ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سفر میں نکلے، ہم میں سے بعض نے عمرہ کا احرام باندھا اور بعض نے حج کا، پھر ہم مکہ آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی ساتھ نہ لایا ہو تو وہ حلال ہو جائے اور جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور وہ ہدی بھی ساتھ لایا ہو تو وہ ہدی کی قربانی سے پہلے حلال نہ ہو گا۔ اور جس نے حج کا احرام باندھا ہو تو اسے حج پورا کرنا چاہیے۔عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں حائضہ ہو گئی اور عرفہ کا دن آ گیا۔ میں نے صرف عمرہ کا احرام باندھا تھا مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ میں اپنا سر کھول لوں، کنگھا کر لوں اور حج کا احرام باندھ لوں اور عمرہ چھوڑ دوں، میں نے ایسا ہی کیا اور اپنا حج پورا کر لیا۔ پھر میرے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن بن ابی بکر کو بھیجا اور مجھ سے فرمایا کہ میں اپنے چھوٹے ہوئے عمرہ کے عوض تنعیم سے دوسرا عمرہ کروں۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا حجۃ الوداع کا واقعہ بیان کرتی ہیں۔ بعض لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا، بعض نے حج کا۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جس نے عمرہ کا احرام باندھا ہو اور ہدی ساتھ نہ لایا ہو وہ حلال ہو جائے، اور جس کے ساتھ ہدی ہو وہ قربانی سے پہلے حلال نہ ہو۔ جس نے حج کا احرام باندھا ہو وہ حج پورا کرے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو حیض آ گیا اور عرفہ کا دن آ گیا، حالانکہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا تھا۔ نبی صلى الله عليه وسلم نے انہیں سر کھولنے، کنگھا کرنے، حج کا احرام باندھنے اور عمرہ چھوڑنے کا حکم دیا۔ پھر حج کے بعد عبدالرحمٰن بن ابی بکر کے ساتھ تنعیم سے عمرہ کرنے کا حکم دیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حج اور عمرہ کے احرام میں ہدی کا حکم روایت میں الگ بیان ہوا۔
- حیض کی حالت میں سیدہ عائشہؓ کو عمرہ چھوڑ کر حج پورا کرنے کا حکم ملا۔
- چھوٹے ہوئے عمرہ کے بدلے تنعیم سے عمرہ کیا گیا۔
