صحیح بخاری حدیث ۳۲۰ - استحاضہ میں غسل اور نماز
استحاضہ حیض نہیں: غسل کے بعد نماز پڑھنے کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۲۰
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ أَبِي حُبَيْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ ، فَسَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَتْ بِالْحَيْضَةِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ ، وَإِذَا أَدْبَرَتْ فَاغْتَسِلِي وَصَلِّي " .
عائشہ روایت:
فاطمہ بنت ابی حبیش کو استحاضہ کا خون آیا کرتا تھا۔ تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق پوچھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے اور حیض نہیں ہے۔ اس لیے جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کر اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کر۔
صحیح بخاری حدیث ۳۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا کو استحاضہ کا خون آتا تھا۔ انہوں نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے، حیض نہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ہدایت دی کہ جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دیا کرو، اور جب حیض کے دن گزر جائیں تو غسل کر کے نماز پڑھ لیا کرو۔ یہ روایت استحاضہ اور حیض کے فرق کو صاف کرتی ہے۔ ہر خون کو ایک ہی حکم نہیں دیا گیا۔ حدیث کا عملی پیغام یہ ہے کہ عادت کے حیض کے دنوں میں نماز نہیں، مگر وہ دن ختم ہونے پر غسل اور نماز ہے۔ اس میں عورت کے سوال کا جواب مختصر، واضح اور عمل کے قابل انداز میں دیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استحاضہ کو رگ کا خون کہا گیا، حیض نہیں۔
- حیض کے دنوں میں نماز چھوڑنے کی ہدایت دی گئی۔
- حیض ختم ہونے پر غسل کر کے نماز پڑھنے کا حکم بیان ہوا۔
