صحیح بخاری حدیث ۳۰۶ - استحاضہ اور نماز کا حکم
استحاضہ کیا ہے؟ نماز کے بارے میں فاطمہ بنت ابی حبیشؓ کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۰۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۰۶
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ : قَالَتْ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِي حُبَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَا أَطْهُرُ أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّمَا ذَلِكِ عِرْقٌ وَلَيْسَ بِالْحَيْضَةِ ، فَإِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَاتْرُكِي الصَّلَاةَ فَإِذَا ذَهَبَ قَدْرُهَا فَاغْسِلِي عَنْكِ الدَّمَ وَصَلِّي " .
عائشہ روایت:
فاطمہ ابی حبیش کی بیٹی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ یا رسول اللہ! میں تو پاک ہی نہیں ہوتی، تو کیا میں نماز بالکل چھوڑ دوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے حیض نہیں اس لیے جب حیض کے دن (جن میں کبھی پہلے تمہیں عادتاً آیا کرتا تھا) آئیں تو نماز چھوڑ دے اور جب اندازہ کے مطابق وہ دن گزر جائیں، تو خون دھو ڈال اور نماز پڑھ۔
صحیح بخاری حدیث ۳۰۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں فاطمہ بنت ابی حبیش رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھا کہ میں پاک نہیں ہوتی، کیا نماز بالکل چھوڑ دوں؟ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ یہ رگ کا خون ہے، حیض نہیں۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے ہدایت دی کہ جب حیض کے دن آئیں تو نماز چھوڑ دو، اور جب اندازے کے مطابق وہ دن گزر جائیں تو خون دھو کر نماز پڑھو۔ اس حدیث کا اصل موضوع استحاضہ اور نماز ہے۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ ہر جاری خون کو حیض نہیں کہا گیا۔ حدیث عورت کے لیے آسان اور صاف راستہ بتاتی ہے: عادت کے حیض کے دن الگ، اور باقی دنوں میں پاکی کی کوشش کے ساتھ نماز۔ یہاں سوال کرنے والی کو ڈانٹا نہیں گیا بلکہ واضح جواب دیا گیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- استحاضہ کو حدیث میں رگ کا خون کہا گیا ہے، حیض نہیں۔
- حیض کے دنوں میں نماز چھوڑی جائے گی۔
- حیض کے دن گزرنے کے بعد خون دھو کر نماز پڑھی جائے گی۔
