صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۴ - ہرقل اور ابو سفیان کا واقعہ
ہرقل اور ابو سفیان کی حدیث
صحیح بخاری : ۳۱۷۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۳۱۷۴
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يُونُسَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ ، أَخْبَرَهُ ، أَنَّ أَبَا سُفْيَانَ بْنَ حَرْبِ بْنِ أُمَيَّةَ ، أَخْبَرَهُ : " أَنَّ هِرَقْلَ أَرْسَلَ إِلَيْهِ فِي رَكْبٍ مِنْ قُرَيْشٍ كَانُوا تِجَارًا بِالشَّأْمِ فِي الْمُدَّةِ الَّتِي مَادَّ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَا سُفْيَانَ فِي كُفَّارِ قُرَيْشٍ .
ابوسفیان بن حرب روایت:
ہرقل (فرمانروائے روم) نے انہیں قریش کے قافلے کے ساتھ بلا بھیجا (یہ لوگ شام اس زمانے میں تجارت کی غرض سے گئے ہوئے تھے۔) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان سے (صلح حدیبیہ میں) قریش کے کافروں کے مقدمہ میں صلح کی تھی۔
صحیح بخاری حدیث ۳۱۷۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع ہرقل اور ابو سفیان رضی اللہ عنہ کا واقعہ ہے۔ روایت میں بتایا گیا ہے کہ رومی حکمران ہرقل نے قریش کے ایک قافلے میں موجود ابو سفیان بن حرب کو بلا بھیجا۔ یہ لوگ شام میں تجارت کے لیے گئے ہوئے تھے۔ یہ واقعہ اس مدت میں پیش آیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان اور قریش کے کافروں سے صلح کی ہوئی تھی۔ اس مختصر روایت میں دو باتیں صاف سامنے آتی ہیں: ایک یہ کہ صلح حدیبیہ کے زمانے میں قریش کے لوگ شام کی طرف تجارت کے لیے جاتے تھے، اور دوسری یہ کہ ہرقل نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں معلومات لینے کے لیے ابو سفیان کو بلایا۔ اس حدیث کا تعلق دعوت، صلح، اور نبوت کی خبر کے پھیلنے سے ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صلح کے زمانے میں قریش کا تجارتی سفر جاری تھا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خبر بڑے حکمرانوں تک پہنچی۔
- ہرقل نے قریش کے قافلے سے معلومات لینے کا اہتمام کیا۔
- صلح حدیبیہ کا زمانہ اس واقعے کے پس منظر میں ذکر ہوا۔
